امریکا ایران امن معاہدہ: تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے سے زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ مثبت رجحان امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت گر کر 80.64 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ برطانوی کروڈ آئل 83.68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں فی اونس سونا 109 ڈالر اضافے کے بعد 4328 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر باضابطہ دستخط آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ معاہدے کے بعد خطے میں استحکام آئے گا اور تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے خدشات کم ہوں گے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے اور عالمی معیشت کو بھی مثبت اثرات حاصل ہوں گے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم اب امن معاہدے کی امید نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان پیدا کر دیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 جون، 2026 کو 06:20 AM
آخری تدوین: 15 جون، 2026



