نیتن یاہو کی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوئی، اس میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں: ٹرمپ کا سخت بیان

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، تاہم نیتن یاہو کی وجہ سے دستخط میں تاخیر ہوئی۔ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران دونوں سے مزید حملے نہ کرنے کی اپیل بھی کی
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی کارروائیوں کی وجہ سے دستخطی عمل میں غیر ضروری تاخیر پیدا ہوئی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط اب تک ہو جانے چاہیے تھے، لیکن حالیہ پیش رفت کے باعث اس میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں مشیروں نے بیروت پر اسرائیلی حملے کی اطلاع دی تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ "تم میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں، حملہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔"
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے شدہ امن معاہدہ اتوار کو بھی شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور تمام فریق سفارتی عمل کو مکمل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کے باوجود مذاکراتی عمل متاثر نہیں ہوگا اور معاہدہ جلد باضابطہ شکل اختیار کر لے گا۔
دوسری جانب فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگلے دو سے تین گھنٹوں کے اندر امن معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ مزید حملوں سے گریز کریں، جبکہ ایران سے بھی اپیل کی جائے گی کہ وہ اسرائیل پر کسی قسم کا میزائل حملہ نہ کرے تاکہ سفارتی عمل کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بیروت پر اسرائیلی حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں لبنانی حکام کے مطابق تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے لیے ایک اہم امتحان ہے، تاہم امریکا اور ایران دونوں جانب سے معاہدے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 جون، 2026 کو 03:38 AM
آخری تدوین: 15 جون، 2026



