سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر قرض کی واپسی 3 سال کے لیے مؤخر کر دی، بیرونی مالی دباؤ میں نمایاں کمی

سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر قرض کی واپسی تین سال کے لیے مؤخر کر دی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس فیصلے سے بیرونی مالی دباؤ کم ہوگا، مالی ضروریات میں کمی آئے گی اور دسمبر 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے
اسلام آباد: سعودی عرب نے پاکستان کے لیے اہم مالی ریلیف فراہم کرتے ہوئے 5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی تین سال کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس فیصلے سے ملک پر فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب کے مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس موجود ہیں۔ رواں سال اپریل میں سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کا قلیل مدتی قرض فراہم کیا تھا، جس کی مدت تین ماہ تھی۔ ان فنڈز کے ذریعے پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اپنی واجب الادا ادائیگیاں مکمل کی تھیں۔
مرکزی بینک کے مطابق 5 ارب ڈالر کے قرض کی رول اوور سہولت ملنے کے بعد مالی سال کے دوران پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں، جبکہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی تقریباً نصف ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ جولائی کے دوران پاکستان 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کر چکا ہے، جبکہ چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ اگلے ماہ متوقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ سے 9 ارب ڈالر خریدے، جبکہ دسمبر 2026 تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے قرض کی واپسی مؤخر کیے جانے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملنے، بیرونی مالی دباؤ کم ہونے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جولائی، 2026 کو 02:21 AM
آخری تدوین: 30 جولائی، 2026



