سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے لیے خام تیل سستا کر دیا، 26 سال کی سب سے بڑی قیمت میں کمی

سعودی عرب نے اگست 2026 کی سپلائی کے لیے ایشیائی خریداروں کو خام تیل کی سرکاری فروختی قیمت میں 26 سال کی سب سے بڑی کمی کر دی۔ چین، بھارت، پاکستان، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت درآمد کنندہ ممالک کو اس فیصلے سے نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے
سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے لیے خام تیل کی سرکاری فروختی قیمت (Official Selling Price - OSP) میں ریکارڈ کمی کرتے ہوئے اگست کی سپلائی کے لیے قیمت میں نمایاں رعایت کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ گزشتہ 26 برسوں کی سب سے بڑی کمی قرار دی جا رہی ہے، جس سے چین، بھارت، پاکستان، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی درآمد کنندگان کو بڑا ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی رسد میں اضافہ، اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار بڑھانے کی پالیسی اور ایشیا، خصوصاً چین، میں طلب نسبتاً کمزور ہونے کے باعث سعودی عرب اپنی مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی آرامکو نے اپنے اہم عرب لائٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی خریداروں کے لیے علاقائی بینچ مارک کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل رعایت پر مقرر کر دی ہے، جبکہ اس سے قبل یہی خام تیل پریمیم قیمت پر فروخت کیا جا رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کمی مارکیٹ کی توقعات سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایشیا کے بڑے تیل درآمد کنندہ ممالک کو نسبتاً سستا خام تیل دستیاب ہوگا، جس سے درآمدی لاگت میں کمی، توانائی کے اخراجات میں کمی اور عالمی تیل مارکیٹ میں مسابقت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اوپیک پلس نے بھی اگست سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری دی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں رسد مزید بڑھنے اور خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
پاکستان سمیت ایشیائی معیشتوں کے لیے مثبت اشارے
ماہرین اقتصادیات کے مطابق سعودی عرب کے اس فیصلے سے پاکستان، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو نمایاں معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ خام تیل کی درآمد پر آنے والی لاگت میں کمی سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہونے، ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اور مہنگائی کی رفتار میں کمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس وقت عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 72 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 69 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ قیمتیں ایران۔اسرائیل کشیدگی کے دوران ریکارڈ کی گئی بلند سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں، جس کے باعث توانائی درآمد کرنے والی ایشیائی معیشتیں موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 جولائی، 2026 کو 04:31 AM
آخری تدوین: 7 جولائی، 2026



