ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بجائے معاہدہ ان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے پاکستان بھارت کشیدگی، یوکرین جنگ، فیفا کے فیصلے اور روس سے متعلق بھی اہم بیانات دیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ترجیح ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور امن کو فروغ دے۔
اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے مختلف عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حوالے سے سفارتی حل کو فوقیت دی جانی چاہیے اور ان کی خواہش ہے کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔
اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر ایک امریکی فٹ بالر کے حق میں بھی مؤقف اختیار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے بہترین فٹ بالر کو میدان سے باہر بھیجنا غیرمنصفانہ فیصلہ تھا کیونکہ ان کے بقول اس نے کوئی فاؤل پلے نہیں کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈ کارڈ کے معاملے پر انہوں نے فیفا کے صدر سے بات کی اور فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی کی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے فیفا کو کسی مخصوص فیصلے کی ہدایت نہیں دی۔ ان کے مطابق متعلقہ کمیٹی نے اپنا فیصلہ خود کیا اور وہ اس عمل کا احترام کرتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آٹھ جنگیں رکوا چکے ہیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور صورتحال کسی بھی وقت سنگین رخ اختیار کر سکتی تھی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ جنگ رکوانے کی کوششوں سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچیں۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر نیٹو اجلاس میں بھی بات ہوگی۔ ان کے مطابق فریقین تنازع کے حل کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن بھی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین دونوں جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں، جس کے باعث سفارتی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 جولائی، 2026 کو 03:41 AM
آخری تدوین: 7 جولائی، 2026



