وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

نیٹو اجلاس میں ٹرمپ کا بڑا بیان، "ترکیہ میں نہ ہوتا تو شاید شرکت نہ کرتا"

W
Web Desk
7 جولائی، 2026
نیٹو اجلاس میں ٹرمپ کا بڑا بیان، "ترکیہ میں نہ ہوتا تو شاید شرکت نہ کرتا"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اتحاد سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اجلاس ترکیہ میں نہ ہوتا تو شاید وہ شرکت نہ کرتے۔ اردوان، ایران، ایف-35، روس، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ان کے اہم بیانات جانیں

انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نیٹو (NATO) کی کارکردگی سے مایوس ہیں اور اگر اتحاد کا سربراہی اجلاس ترکیہ میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اردوان ان کے قریبی دوست ہیں اور امریکا و ترکیہ کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی اس کی حقیقی فوجی صلاحیت سے پوری طرح واقف نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان سے تجارت، دفاعی تعاون، دوطرفہ تعلقات، ایران کی صورتحال اور خطے کے دیگر اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ترکیہ بھی یہ چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اتحاد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ مشکل وقت میں اتحادی اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑی تو اسے مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ نیٹو کی موجودہ کارکردگی سے مایوس ہیں۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کے دوران امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بعض اتحادی صرف جنگ کے خاتمے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔

ترکیہ کے دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی پر کوئی تشویش نہیں، جبکہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ ہر خودمختار ملک کو اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ تنازع کے حل کی جانب پیش رفت ہوگی اور جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچے گی۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے صدر احمد الشرع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے تعاون، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے علاقائی مسائل کا حل نکالنے کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکی صدر کی انقرہ آمد پر ایتیمس گوت ایئر بیس پر خصوصی استقبالی تقریب منعقد کی گئی، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ ترک روایت کے مطابق سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جبکہ ترک اعزازی گارڈ نے امریکی صدر کو سلامی پیش کی۔ یہ استقبال دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 7 جولائی، 2026 کو 03:43 PM

آخری تدوین: 7 جولائی، 2026

متعلقہ مضامین

ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ
امریکا

ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بجائے معاہدہ ان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے پاکستان بھارت کشیدگی، یوکرین جنگ، فیفا کے فیصلے اور روس سے متعلق بھی اہم بیانات دیے

Web Desk7 جولائی، 2026
خالصتان کارکنوں کا پانچ مغربی ممالک میں بھارتی سفارتی مشنز کے باہر احتجاج، واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کی ناکہ بندی
تازہ ترین

خالصتان کارکنوں کا پانچ مغربی ممالک میں بھارتی سفارتی مشنز کے باہر احتجاج، واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کی ناکہ بندی

خالصتان کے حامی گروپ سکھ فار جسٹس (SFJ) نے امریکا سمیت پانچ ممالک میں بھارتی سفارتی مشنز کے باہر بیک وقت احتجاجی مظاہرے کیے۔

Web Desk6 جولائی، 2026
واشنگٹن میں سفید فام قوم پرست گروپ پیٹریاٹ فرنٹ کی ریلی
امریکا

واشنگٹن میں سفید فام قوم پرست گروپ پیٹریاٹ فرنٹ کی ریلی

پیٹریاٹ فرنٹ کو امریکا میں سرگرم سفید فام قوم پرست اور نسل پرست تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تنظیم خود کو "محب وطن" قرار دیتی ہے، تاہم شہری حقوق کی تنظیمیں اور انتہا پسندی پر نظر رکھنے والے ادارے اسے سفید فام بالادستی کے نظریات کی ترویج کرنے والا گروپ قرار دیتے ہیں

Web Desk6 جولائی، 2026