نیٹو اجلاس میں ٹرمپ کا بڑا بیان، "ترکیہ میں نہ ہوتا تو شاید شرکت نہ کرتا"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اتحاد سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اجلاس ترکیہ میں نہ ہوتا تو شاید وہ شرکت نہ کرتے۔ اردوان، ایران، ایف-35، روس، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ان کے اہم بیانات جانیں
انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نیٹو (NATO) کی کارکردگی سے مایوس ہیں اور اگر اتحاد کا سربراہی اجلاس ترکیہ میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اردوان ان کے قریبی دوست ہیں اور امریکا و ترکیہ کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی اس کی حقیقی فوجی صلاحیت سے پوری طرح واقف نہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان سے تجارت، دفاعی تعاون، دوطرفہ تعلقات، ایران کی صورتحال اور خطے کے دیگر اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ترکیہ بھی یہ چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اتحاد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ مشکل وقت میں اتحادی اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑی تو اسے مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ نیٹو کی موجودہ کارکردگی سے مایوس ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کے دوران امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بعض اتحادی صرف جنگ کے خاتمے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔
ترکیہ کے دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی پر کوئی تشویش نہیں، جبکہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ ہر خودمختار ملک کو اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ تنازع کے حل کی جانب پیش رفت ہوگی اور جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچے گی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے صدر احمد الشرع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے تعاون، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے علاقائی مسائل کا حل نکالنے کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکی صدر کی انقرہ آمد پر ایتیمس گوت ایئر بیس پر خصوصی استقبالی تقریب منعقد کی گئی، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ ترک روایت کے مطابق سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جبکہ ترک اعزازی گارڈ نے امریکی صدر کو سلامی پیش کی۔ یہ استقبال دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 جولائی، 2026 کو 03:43 PM
آخری تدوین: 7 جولائی، 2026



