پاکستان اور کرغزستان میں تجارت، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داری بڑھانے پر اتفاق

صدر آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر صدر جپاروف نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، کاسا-1000، ٹرانسپورٹ، آئی ٹی، سیاحت اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے اور اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا
بشکیک: صدر آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر صدر جپاروف نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کے چار روزہ سرکاری دورۂ کرغزستان کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ گزشتہ برس کرغز صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے سیاسی رابطوں، پارلیمانی تعاون، حکومتی روابط اور وزارتِ خارجہ کے درمیان اشتراک کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں خصوصی توجہ دیتے ہوئے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط میں اضافے کے لیے مشترکہ کوششوں کو تیز کریں، جبکہ مشترکہ بین الحکومتی کمیشن اور ورکنگ گروپس کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے، بالخصوص کاسا-1000 منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اسے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان توانائی کے رابطے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

ملاقات میں کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل، ہلکی صنعت، حلال انڈسٹری، صحت، ادویات سازی، طبی تعلیم، ویکسین اور حیاتیاتی مصنوعات، ڈیجیٹل معیشت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، بینکاری اور مالیاتی شعبے میں تعاون کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ رابطوں کو بہتر بنانے، پاکستان کی بندرگاہوں کے مؤثر استعمال اور کرغزستان کی ٹرانزٹ صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وسطی ایشیا اور یوریشین اکنامک یونین کی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر بھی اتفاق کیا۔

اعلامیے میں تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں، صحتِ عامہ اور طبی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے علاوہ دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، غیر قانونی ہجرت اور سائبر کرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
دونوں ممالک نے خطے اور دنیا میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں کرغزستان کی ترجیحات کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ کرغز صدر نے 2027-28 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے انتخاب میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

وفود کی سطح پر مذاکرات سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان مشترکہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کے نئے راستے تلاش کرنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مناسب قیمتوں پر اپنی معیاری مصنوعات کرغزستان کو فراہم کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 جولائی، 2026 کو 03:59 PM
آخری تدوین: 7 جولائی، 2026



