چین کا جوہری آبدوز سے بیلسٹک میزائل تجربہ، امریکا اور اتحادی ممالک میں تشویش

چین نے جوہری آبدوز سے بحرالکاہل کی جانب بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جس پر امریکا، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تائیوان نے تشویش کا اظہار کیا۔ چین نے اسے معمول کی دفاعی مشقوں کا حصہ قرار دیا
چین نے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز سے بحرالکاہل کی جانب بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کے بعد امریکا، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تائیوان نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی (CCTV) کے مطابق یہ میزائل تجربہ سالانہ فوجی مشقوں کا معمول کا حصہ تھا اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک یا ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

دوسری جانب چینی سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک فوجی ماہر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تجربے میں غالباً جے ایل-3 (JL-3) بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا، جو چین کا جدید ترین آبدوز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل ہے۔ یہ میزائل گزشتہ سال ایک فوجی پریڈ کے دوران پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک رپورٹ کے مطابق جے ایل-3 میزائل اتنی طویل مار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ امریکا کے براعظمی حصے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے باعث اس تجربے کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی حکام نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ یہ میزائل تجربہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی فوجی مشقوں کا حصہ تھا اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کو دھمکانا یا خطے میں کشیدگی پیدا کرنا نہیں تھا۔ تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں اس نوعیت کے جدید میزائل تجربات سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جائے گی اور عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 جولائی، 2026 کو 04:00 AM
آخری تدوین: 7 جولائی، 2026



