وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کے متنازع فنڈز پر ریپبلکن بغاوت، امیگریشن نفاذ بل کی ووٹنگ مؤخر

W
Web Desk
22 مئی، 2026
ٹرمپ کے متنازع فنڈز پر ریپبلکن بغاوت، امیگریشن نفاذ بل کی ووٹنگ مؤخر

سب سے زیادہ تنازع 1.8 ارب ڈالر کے اس فنڈ پر سامنے آیا جسے محکمہ انصاف نے “گورنمنٹ ویپنائزیشن” کے متاثرین کے لیے تجویز کیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اس فنڈ سے 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث افراد کو بھی مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے

( واشنگٹن / رائٹرز ) امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات کے خلاف ریپبلکن ارکان کی اندرونی بغاوت کے باعث امیگریشن انفورسمنٹ کے لیے 72 ارب ڈالر کے بل پر ووٹنگ مؤخر کر دی گئی۔ ریپبلکن سینیٹرز نے خاص طور پر “گورنمنٹ ویپنائزیشن” متاثرین کے لیے 1.8 ارب ڈالر کے فنڈ اور وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق سینیٹ ریپبلکن قیادت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اور بارڈر پٹرول کے لیے فنڈنگ کو جلد منظور کروانا چاہتی تھی تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر ملک بدری پروگرام کو جاری رکھا جا سکے، تاہم بل میں اضافی متنازع شقیں شامل ہونے کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون نے اعتراف کیا کہ بل کو “سادہ اور محدود” رکھا جانا تھا مگر اس ہفتے معاملات پیچیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اضافی فنڈز کی شمولیت نے منظوری کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔

سب سے زیادہ تنازع 1.8 ارب ڈالر کے اس فنڈ پر سامنے آیا جسے محکمہ انصاف نے “گورنمنٹ ویپنائزیشن” کے متاثرین کے لیے تجویز کیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اس فنڈ سے 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث افراد کو بھی مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے، جن میں کئی افراد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کے جرم میں سزا یافتہ ہیں

عبوری اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کو اس معاملے پر وضاحت دینے کے لیے کیپیٹل ہل طلب کیا گیا جہاں متعدد ریپبلکن سینیٹرز نے سخت سوالات کیے۔ بعض ارکان نے مطالبہ کیا کہ یہ فنڈ کسی بھی صورت میں کیپیٹل ہنگاموں میں سزا یافتہ افراد کو معاوضہ دینے کے لیے استعمال نہ ہو۔

ریپبلکن سینیٹر تھام ٹیلیس نے اس فنڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اس منصوبے کو مسترد کر دیں گے۔ جبکہ نیبراسکا سے ریپبلکن رکن ڈان بیکن نے کہا کہ اس منصوبے سے مفادات کے ٹکراؤ کا تاثر پیدا ہوتا ہے کیونکہ ٹرمپ خود اس مقدمے کے مدعی بھی ہیں۔

اسی دوران وائٹ ہاؤس میں مجوزہ 90 ہزار اسکوائر فٹ کے نئے بال روم کے لیے ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ نے بھی دونوں جماعتوں کے ارکان کو ناراض کر دیا۔ صدر ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ اس منصوبے پر ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ نہیں ہوگا، لیکن اب یہ رقم حکومتی بل میں شامل کیے جانے پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔

ڈیموکریٹس نے اس منصوبے کو “نمائش پسند” اور “عوامی مسائل سے کٹا ہوا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب امریکی عوام مہنگائی، رہائش، صحت اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہیں، وائٹ ہاؤس کے لیے شاندار بال روم کی تعمیر عوامی ترجیحات کے خلاف ہے۔

سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب صدر ٹرمپ نے بعض موجودہ ریپبلکن سینیٹرز کے خلاف پرائمری امیدواروں کی حمایت کی، جس سے پارٹی کے اندر اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق صورتحال اس قدر کشیدہ تھی کہ صدر ٹرمپ، ریپبلکن سینیٹرز اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کے درمیان طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی۔

اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سینیٹ جون میں میموریل ڈے تعطیلات کے بعد اس بل پر دوبارہ غور کرے گی۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 22 مئی، 2026 کو 01:15 AM

آخری تدوین: 22 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی انتخابات میں مداخلت کا خدشہ، کیلیفورنیا کے گورنر کا ججوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف خبردار رہنے کا مطالبہ
تازہ ترین

امریکی انتخابات میں مداخلت کا خدشہ، کیلیفورنیا کے گورنر کا ججوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف خبردار رہنے کا مطالبہ

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے امریکی ججوں کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وسط مدتی انتخابات سے قبل بیلٹ پیپرز اور انتخابی ریکارڈ ضبط کرنے کے لیے عدالتی وارنٹ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے

Web Desk1 نومبر، 2026
امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم
امریکا

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل 5 کروڑ 27 لاکھ 96 ہزار سے زائد شہری ووٹ ڈال چکے ہیں، جس کے بعد 2022 کے قبل از وقت ووٹنگ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

Web Desk1 نومبر، 2026
ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے،  صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تازہ ترین

ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، ضرورت پڑنے پر 10 منٹ میں حملہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کی تصدیق کر دی

Web Desk1 نومبر، 2026