ٹیلی کام بل پر حکومت کی وضاحت، نجی زمین پر مالک کی اجازت کے بغیر فائبر نہیں بچھایا جائے گا

وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کے تحت کسی کی ذاتی زمین پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا، جبکہ نجی پراپرٹی پر فائبر بچھانے کیلئے مالک کی اجازت لازمی ہوگی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل میں 6 ترامیم اور حکومت کے مؤقف کی تفصیلات بھی بیان کیں
(اسلام آباد) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے واضح کیا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کے تحت کسی بھی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ نجی پراپرٹی سے فائبر آپٹک بچھانے کے لیے متعلقہ مالک کی اجازت لازمی ہوگی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ ٹیلی کام بل کے حوالے سے مالی بے ضابطگیوں اور دیگر الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو بھی تجویز دی گئی ہے کہ بل سے متعلق سامنے آنے والے تمام الزامات کی شفاف انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیلی کام بل کا بنیادی مقصد ملک بھر میں تیز رفتار اور معیاری انٹرنیٹ کی سہولت کو فروغ دینا ہے، جبکہ قانون سازی تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں 6 اہم ترامیم شامل کرنے کے بعد بل کو منظور کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نجی زمین پر فائبر آپٹک کی تنصیب کے لیے جائیداد کے مالک کی پیشگی اجازت ضروری ہوگی اور کسی بھی شخص کے ملکیتی حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کو تحقیقات کے دوران کسی ایک کمپنی کو غیر ضروری فائدہ پہنچانے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ کمیٹی نے بل میں موجود تمام خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کا مقصد جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی، تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنانا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 جولائی، 2026 کو 12:19 PM
آخری تدوین: 5 جولائی، 2026



