وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں، سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کرنا: مراد علی شاہ

W
Web Desk
3 ستمبر، 2026
 قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں، سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کرنا: مراد علی شاہ

سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے مطالبات مسترد، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کی وحدت پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو خبردار کیا۔ سعید غنی نے کہا سندھ کی تقسیم ہوئی تو سیاست اور وزارت چھوڑ دیں گے

کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی تقسیم اور نئے صوبے کے قیام سے متعلق مطالبات پر شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کی جائے۔

اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی وحدت اور تقسیم کے معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی رکنیت، وزارت، سیاست اور زندگی سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سندھ کی تقسیم کی بات ہوئی تو وہ وزارت، اسمبلی رکنیت اور سیاست کو لات مار دیں گے اور وقت پڑنے پر جان بھی دے دیں گے۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ اسمبلی کو صرف سندھ سے متعلق معاملات پر فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے، اس لیے پنجاب یا خیبرپختونخوا میں نئے صوبے کے قیام کے معاملے میں سندھ اسمبلی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی نیا صوبہ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی اگر نئے صوبے کے قیام کی حمایت کرتی ہے تو اس فیصلے کی بھی حمایت کی جائے گی۔

تاہم سعید غنی نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی مخالف ہے اور سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی معاملے کا فیصلہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ ماضی میں بھی مختلف اوقات میں سامنے آتا رہا ہے، لیکن سندھ اسمبلی نے ہمیشہ ایسے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی ایک تقریر کے بعد یہ معاملہ دوبارہ نمایاں ہوا، جس کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی مختلف مواقع پر اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا۔

سندھ اسمبلی کی بحث کو تاریخی دستاویز بنانے کا اعلان

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی وحدت سے متعلق سندھ اسمبلی میں ہونے والی مکمل بحث کو محفوظ کرکے تاریخی دستاویز کے طور پر شائع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تمام تقاریر اور بیانات اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنیں گے تاکہ مستقبل میں کسی بھی رکن کے مؤقف کو مسخ نہ کیا جاسکے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلے آئین کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے ٹی وی ٹاک شوز، سروے، ریفرنڈم، احتجاج یا جلسوں کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی فورمز پر ہونے چاہئیں۔

شرجیل میمن نے آئین کے آرٹیکل 239(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی کے معاملات میں صوبائی اسمبلیوں کا کردار آئین میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ ہونا ہے تو وہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔

پاکستان کی سالمیت ہماری ریڈ لائن ہے، شرجیل میمن

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی صوبے کی وحدت سے متعلق متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور تحریک التوا پر بحث کے بعد ایک اور قرارداد ایوان میں لائے جانے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی صوبائی شناخت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، تاہم ان کی پاکستان سے وابستگی بھی مضبوط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ہماری ریڈ لائن ہے اور ملک کی آئینی حیثیت، وحدت اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

سندھ اسمبلی ہی اہم فیصلوں کا مناسب فورم ہے

سندھ کے سینئر وزیر قاسم سراج سومرو نے کہا کہ صوبے سے متعلق اہم معاملات پر بحث کے لیے سندھ اسمبلی ہی مناسب فورم ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ سندھ نے ہمیشہ صوبے کی تقسیم کے ایجنڈے کو مسترد کیا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن معید انور نے کہا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور اس حوالے سے کسی تنازع یا اشتعال انگیز بیان بازی کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی یونٹس قائم کیے جاتے ہیں تو اس معاملے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن روما مشتاق مٹو نے سندھ کی تقسیم کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کی خواہش پر صوبہ تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

ایم کیو ایم کی رکن سکندر خاتون نے کہا کہ نثار کھوڑو کی جانب سے تحریک پیش کیے جانے کے بعد انہیں اسمبلی میں اپنی جماعت کا مؤقف بیان کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی اور نئے صوبے کے قیام سے متعلق آئینی طریقہ کار موجود ہے۔

سکندر خاتون نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے پر بحث کے ساتھ ساتھ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 3 ستمبر، 2026 کو 03:24 PM

آخری تدوین: 3 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین

بشریٰ انصاری نے طلاق کے باوجود اپنے نام سے ’انصاری‘ کیوں نہیں ہٹایا؟
تازہ ترین

بشریٰ انصاری نے طلاق کے باوجود اپنے نام سے ’انصاری‘ کیوں نہیں ہٹایا؟

سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے پہلے شوہر سے علیحدگی کے باوجود اپنے نام کے ساتھ ’انصاری‘ برقرار رکھنے کی وجہ بتا دی۔ اداکارہ نے کہا کہ سرکاری کاغذات میں ان کا نام بشریٰ بشیر ہے، مگر وہ لوگوں کو الجھن میں نہیں ڈالنا چاہتیں

Web Desk4 ستمبر، 2026
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 36 دہشتگرد ہلاک
پاکستان

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 36 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان کے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 36 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 48 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں

Web Desk4 ستمبر، 2026
ہیڈر: آزاد جموں و کشمیر کی نئی 8 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا
پاکستان

ہیڈر: آزاد جموں و کشمیر کی نئی 8 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت کی 8 رکنی کابینہ نے ایوان صدر میں حلف اٹھا لیا۔ قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے وزرا سے حلف لیا جبکہ وزیراعظم افتخار گیلانی بھی تقریب میں شریک ہوئے

Web Desk4 ستمبر، 2026