سپین کا اٹلی سے آنے والوں پر بارڈر چیک کا اعلان | شینگن بحران شدت اختیار کر گیا

سپین نے اٹلی سے آنے والے تمام مسافروں، پروازوں اور بحری جہازوں کے لیے بارڈر چیک نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سیوٹا میں تارکین وطن کے حالیہ بحران اور اٹلی کی جانب سے سرحدی چیکنگ 15 اگست تک برقرار رکھنے کے بعد سامنے آیا ہے
##
میڈرڈ: سپین نے اٹلی سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحدی جانچ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اٹلی سے سپین پہنچنے والے تمام مسافروں، پروازوں اور بحری جہازوں کی چیکنگ کی جائے گی۔
سپین کے حکام کے مطابق یہ فیصلہ شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں حالیہ تارکینِ وطن کے بحران کے تناظر میں کیا گیا ہے، جہاں مراکش سے تقریباً 72 ہزار تارکین وطن کے داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
### اٹلی نے بارڈر چیک 15 اگست تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا
اٹلی نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے سرحدی چیکنگ 15 اگست تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیوٹا بحران کے بعد اٹلی نے شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمدورفت سے متعلق انتظامات بھی عارضی طور پر معطل کیے تھے۔
سپین کی حکومت نے اٹلی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اتوار تک سرحدی چیکنگ ختم کرے، تاہم اٹلی کی جانب سے انکار کے بعد سپین نے بھی جوابی اقدامات نافذ کر دیے۔
### دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی
اٹلی کے فیصلے کے جواب میں سپین کی جانب سے بارڈر چیک نافذ کیے جانے کے بعد دونوں یورپی ممالک کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
سپین کے حکام کا کہنا ہے کہ سیوٹا میں داخل ہونے والے زیادہ تر تارکین وطن رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں، تاہم تقریباً 1,400 بے سہارا بچے اب بھی سیوٹا میں موجود ہیں۔
حکام کے مطابق علاقے میں سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور تارکین وطن کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 اگست، 2026 کو 06:03 AM
آخری تدوین: 8 اگست، 2026



