’’بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں، ایران کو تباہ کروں یا دوبارہ پنپنے دوں‘‘ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ ایران کو تباہ کیا جائے یا اسے دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام، معیشت، آبنائے ہرمز اور ممکنہ معاہدے پر بھی اہم باتیں کیں۔ امریکی صدر نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران سے ڈیل کی توقع ظاہر کی اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے ممالک کو علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، جس میں انہیں یہ طے کرنا ہے کہ ایران کو تباہ کیا جائے یا اسے دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ ٹرمپ نے یہ بیان 22 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق تہران سے معاہدے کی کوشش کی گئی، تاہم ایران نے انکار کیا۔ امریکی صدر نے ایران پر خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایران کا موجودہ رویہ اس کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے اور وہاں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی طاقت، معیشت، فوج اور داخلی سلامتی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور محفوظ ہے اور ملک میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے امریکی فوجی کارروائیوں اور تیل کی ترسیل کا ذکر کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے راستے محفوظ کیے ہیں۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی اداروں پر بھی تنقید کی اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سے علیحدگی اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے میں اپنے کردار کا بھی دوبارہ ذکر کیا اور کہا کہ امریکا عالمی تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
شائع ہوا: 22 ستمبر، 2026 کو 05:26 PM
آخری تدوین: 22 ستمبر، 2026



