ہیڈر: اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے، اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ اردوان نے آزاد فلسطینی ریاست، 1967 کی سرحدوں، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے، غزہ کی تعمیر نو اور خطے میں سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی اتحاد، آبنائے ہرمز اور اسرائیلی وفد کے واک آؤٹ کا بھی ذکر کیا
نیویارک:ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
اردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ امن برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہے، اس لیے خطے کے مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر اقدامات اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
ترک صدر نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ اتحاد علاقائی ملکیت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یکجہتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اردوان نے کہا کہ وہاں بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رہنی چاہیے اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنا ضروری ہیں۔
فلسطین کے معاملے پر ترک صدر نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم ہونی چاہیے اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنایا جائے۔ انہوں نے غزہ کی تعمیر نو جلد شروع کرنے اور اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔
اردوان نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے شرم الشیخ میں ایک سال قبل طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اردوان کے خطاب کے دوران اسرائیلی وفد جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کر گیا۔ اقوام متحدہ کی سابقہ کارروائیوں میں بھی اسرائیلی حکام کے خطابات کے دوران مختلف وفود کے واک آؤٹ کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
شائع ہوا: 22 ستمبر، 2026 کو 05:32 PM
آخری تدوین: 22 ستمبر، 2026



