ٹرمپ کا اٹلی پر سخت حملہ، ایران کے خلاف ساتھ نہ دینے پر وزیراعظم جارجیا میلونی کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی اور وزیراعظم جارجیا میلونی پر ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ نہ دینے کا الزام عائد کر دیا، جبکہ میلونی نے ٹرمپ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے نیٹو اتحاد پر کھربوں ڈالر خرچ کیے اور کئی دہائیوں سے اپنے اتحادیوں کا دفاع کیا، تاہم جب ایران کے معاملے پر آزمائش کا وقت آیا تو اٹلی اور اس کی قیادت نے امریکہ کا ساتھ دینے کا سوچا بھی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہم برسوں سے ان کا دفاع کرتے آ رہے ہیں، لیکن جب ضرورت پڑی تو وہ نہ ہماری مدد کے لیے موجود تھے اور نہ ہی باقی دنیا کے لیے۔"
ٹرمپ کے بیان نے امریکہ اور اٹلی کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اس سے قبل اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی بھی امریکی صدر کے الزامات پر سخت ردعمل دے چکی ہیں۔
گزشتہ روز جارجیا میلونی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی سیاسی مقبولیت کا انحصار امریکی صدر کے ساتھ تعلقات پر نہیں بلکہ اٹلی کے قومی مفادات کے تحفظ پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ "میری مقبولیت ڈونلڈ ٹرمپ کی تشویش کا موضوع نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں اپنی مقبولیت پر توجہ دینی چاہیے۔"
دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران جارجیا میلونی اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے بار بار ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کی خواہش ظاہر کرتی رہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان پر اٹلی میں سیاسی حلقوں نے بھی ردعمل دیا جبکہ مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ مستقبل میں امریکہ اور اٹلی کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی سفارتکاری کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 22 جون، 2026 کو 04:30 AM
آخری تدوین: 22 جون، 2026



