ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع کو لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی تنازع کو لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ فورٹ ورتھ میں ووٹرز سے گفتگو کے دوران امریکی فوجی پالیسی کا دفاع کیا
فورٹ ورتھ، ٹیکساس: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع کو ایک طویل اور لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد دیگر قومی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں ووٹرز کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست کے دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی پالیسی پر اظہارِ خیال کیا۔
امریکی نائب صدر نے طویل فوجی جنگوں اور بیرونِ ملک مداخلتوں کے حوالے سے امریکی عوام کی مایوسی کو تسلیم کرتے ہوئے عراق میں اپنی فوجی خدمات کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی کے حوالے سے عوامی تحفظات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ طویل جنگوں کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال سے گریز کرے۔ ان کے مطابق بعض حالات میں قومی مفادات اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فوجی طاقت کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکہ گزشتہ تقریباً سات ماہ سے کسی نہ کسی شکل میں ایران کے معاملے میں مصروف ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ تقریباً 47 برس پر محیط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع کو غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی جنگ نہیں بننے دیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ امریکہ کے طے شدہ مقاصد حاصل کریں گے، جس کے بعد حکومت اپنی دیگر اہم ترجیحات پر توجہ دے سکے گی۔
وینس کے ان بیانات کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی انتظامیہ کی پالیسی اور طویل فوجی مداخلتوں سے گریز کے مؤقف کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔
شائع ہوا: 30 اکتوبر، 2026 کو 05:50 AM
آخری تدوین: 30 اکتوبر، 2026



