امریکا اور جی سی سی کا لبنان سے متعلق مذاکرات کو دیگر تنازعات سے الگ رکھنے پر اتفاق

بحرین میں امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں لبنان سے متعلق مذاکرات کو دیگر تنازعات سے الگ رکھنے، غزہ سے جبری بے دخلی کی مخالفت اور لبنان میں تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے پر زور دیا گیا
(منامہ) بحرین میں ہونے والے امریکا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں لبنان سے متعلق مذاکرات کو خطے کے دیگر تنازعات سے مشروط نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ لبنان میں سیاسی اور سکیورٹی استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جائے اور اس حوالے سے پیش رفت کو دیگر علاقائی تنازعات سے منسلک نہ کیا جائے۔ اعلامیے میں لبنان میں ریاست کے علاوہ تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اعلامیے میں غزہ کی صورتحال پر بھی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی فلسطینی کو زبردستی غزہ سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ جو افراد اپنی مرضی سے غزہ چھوڑیں، انہیں واپس آنے کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
دریں اثنا، بحرینی بادشاہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نام سے رقوم یا ٹیکس کی وصولی امریکا کے لیے ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایسے کسی بھی اقدام کو نہ برداشت کرے گا اور نہ ہی اس کی اجازت دے گا۔ ان کے مطابق عمان نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر ٹیکس وصولی کے کسی بھی نظام کی مخالفت کرتا ہے۔
مارکو روبیو نے ایران سے متعلق سوال پر کہا کہ امریکی پالیسی کا انحصار ایرانی بیانات پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے اقدامات کو دیکھتا ہے اور اسی بنیاد پر اپنا ردعمل دیتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 26 جون، 2026 کو 04:13 AM
آخری تدوین: 26 جون، 2026



