امریکا کا خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف


امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک نے خلائی مدار میں ہتھیار کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے، چین نے امریکی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کردیا
واشنگٹن: امریکا نے پہلی بار خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کیے جانے کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور ممکنہ جارحانہ کارروائیوں کے خلاف امریکی افواج کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک نے کہا ہے کہ امریکا کو بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق مدار میں تعینات ہتھیار امریکی افواج کو دشمن کی ممکنہ جارحانہ کارروائی سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھا۔
تاہم امریکی فضائیہ کے سیکرٹری نے اس ہتھیار کی نوعیت، اس کی صلاحیتوں یا اسے خلائی مدار میں کب تعینات کیا گیا، اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
چین کا امریکی اقدام پر ردعمل
چین نے امریکا کی جانب سے خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے واشنگٹن سے خلا میں اپنی فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین خلا کے پرامن استعمال اور اسے محفوظ رکھنے کا حامی ہے۔
ترجمان کے مطابق امریکا کو خلا میں اپنی فوجی طاقت میں اضافے کا سلسلہ روکنا چاہیے اور عالمی اسٹریٹجک استحکام برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
خلائی مدار میں فوجی صلاحیتوں کی تعیناتی کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑی طاقتوں کے درمیان خلا کے فوجی استعمال، سکیورٹی اور اسٹریٹجک استحکام سے متعلق خدشات پر بحث جاری ہے۔

شائع ہوا: 16 ستمبر، 2026 کو 03:58 AM
آخری تدوین: 16 ستمبر، 2026



