وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ایران کے لیے ثالثوں کی آخری کوشش، 45 روزہ جنگ بندی پر بات چیت جاری

W
Web Desk
7 اپریل، 2026
ایران کے لیے ثالثوں کی آخری کوشش، 45 روزہ جنگ بندی پر بات چیت جاری

امریکہ، ایران اور خطے کے ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔اس بات کا انکشاف امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے کیا ہے جو ان مذاکرات سے آگاہ ہیں۔

(واشنگٹن ڈی سی)امریکی میڈیا کا ایک بڑا حصہ رپورٹ کر رہا ہے کہ آئندہ 12 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ آخری کوشش جنگ میں خطرناک شدت کو روکنے کا واحد موقع ہو سکتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے اور خلیجی ممالک کی توانائی و پانی کی تنصیبات پر جوابی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دیا گیا 10 روزہ الٹی میٹم پیر کی شام ختم ہونا تھا، تاہم انہوں نے اسے 20 گھنٹے بڑھا کر منگل رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) تک کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ “گہرے مذاکرات” میں مصروف ہے اور ڈیڈ لائن سے پہلے معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “وہاں سب کچھ تباہ کر دیا جائے گا۔”

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ 45 روزہ جنگ بندی کا منصوبہ زیر غور کئی تجاویز میں سے ایک ہے، تاہم صدر نے ابھی اس کی منظوری نہیں دی۔ عہدیدار کے مطابق فوجی آپریشن “ایپک فیوری” جاری ہے۔

صدر ٹرمپ پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے شہریوں کے لیے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جسے ممکنہ طور پر جنگی جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کی تنصیبات پر جوابی حملے کرے گا۔

ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر بڑے حملوں کا منصوبہ تیار ہے، تاہم ڈیڈ لائن میں توسیع کا مقصد مذاکرات کے لیے آخری موقع فراہم کرنا ہے۔

پس پردہ سفارتی کوششوں میں پاکستان، مصر اور ترکی ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہ راست پیغامات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔

مذاکرات میں دو مرحلوں پر مشتمل معاہدہ زیر غور ہے۔ پہلے مرحلے میں 45 روزہ جنگ بندی ہوگی، جس کے دوران مستقل امن معاہدے پر بات چیت جاری رہے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا جائے گا۔ اگر ضرورت پڑی تو جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے افزودہ یورینیم کے مسئلے کا حل صرف حتمی معاہدے کے تحت ہی ممکن ہوگا۔ ثالث اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ ایران ابتدائی مرحلے میں ان معاملات پر جزوی اقدامات کرے، جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی اعتماد سازی کے اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسی صورتحال نہیں چاہتے جیسے غزہ یا لبنان میں دیکھنے کو ملی، جہاں جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ثالثوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو اس کا ردعمل خلیجی ممالک کے تیل اور پانی کے نظام کے لیے شدید تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ثالثوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے فیصلہ کن ہیں اور مزید تاخیری حربوں کی گنجائش نہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام اب بھی سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں اور کسی بڑی رعایت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی “کبھی نہیں ہوگی”، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 7 اپریل، 2026 کو 12:33 PM

آخری تدوین: 7 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی انتخابات میں مداخلت کا خدشہ، کیلیفورنیا کے گورنر کا ججوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف خبردار رہنے کا مطالبہ
تازہ ترین

امریکی انتخابات میں مداخلت کا خدشہ، کیلیفورنیا کے گورنر کا ججوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف خبردار رہنے کا مطالبہ

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے امریکی ججوں کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وسط مدتی انتخابات سے قبل بیلٹ پیپرز اور انتخابی ریکارڈ ضبط کرنے کے لیے عدالتی وارنٹ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے

Web Desk1 نومبر، 2026
امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم
امریکا

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل 5 کروڑ 27 لاکھ 96 ہزار سے زائد شہری ووٹ ڈال چکے ہیں، جس کے بعد 2022 کے قبل از وقت ووٹنگ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

Web Desk1 نومبر، 2026
ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے،  صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تازہ ترین

ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، ضرورت پڑنے پر 10 منٹ میں حملہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کی تصدیق کر دی

Web Desk1 نومبر، 2026