ایران اور امریکہ جنگ بندی معاہدے کے قریب، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی اتفاق متوقع: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ بندی معاہدے کے انتہائی قریب ہیں۔ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی، اقتصادی اقدامات اور آئندہ جوہری مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے نکات شامل ہیں
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک اہم معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سمیت متعدد اہم نکات پر اتفاق رائے متوقع ہے۔
بی بی سی فارسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ فریقین پہلے کبھی بھی معاہدے کے اتنے قریب نہیں تھے اور امکان ہے کہ یہ آئندہ ایک یا دو روز یا چند دنوں کے اندر طے پا جائے گا۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدہ 14 نکات پر مشتمل ہوگا اور اس کی تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت اگرچہ ڈیڑھ سے دو صفحات پر مشتمل ہے، تاہم اس کی ہر شق اور ہر جملے پر دو ماہ سے زائد عرصے تک تفصیلی مذاکرات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ایرانی میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے غیر مصدقہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے تاکہ سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔
عباس عراقچی کے مطابق قومی سلامتی کونسل اور سکیورٹی اداروں کو مذاکرات کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا گیا ہے، جبکہ مسلح افواج بھی آبنائے ہرمز اور جنگ بندی سمیت اہم معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری برقرار ہے اور مستقبل میں اس آبی گزرگاہ کے انتظام کا طریقہ کار ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، "امریکہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی عبوری معاہدے کا اہم حصہ ہیں، تاہم ایران اپنی سلامتی اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔"
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ عبوری معاہدہ صرف پہلا قدم ہوگا اور اگر یہ مؤثر انداز میں نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے، جبکہ جوہری معاملات بعد کے مرحلے میں زیر بحث آئیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کا اعلان تمام متعلقہ محاذوں، بشمول لبنان، پر کیا جائے گا اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیلی افواج کا متنازع علاقوں سے انخلا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقائی قوتیں، خصوصاً اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ معاہدے یا اعلیٰ سطحی ملاقات کے نتیجے میں منجمد ایرانی فنڈز فوری طور پر بحال نہیں کیے جائیں گے، تاہم اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اسے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے متعدد جعلی اور گمراہ کن اطلاعات بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 جون، 2026 کو 11:20 AM
آخری تدوین: 13 جون، 2026



