وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
دُنیا

ایران کی خلیجی ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر مشترکہ سکیورٹی فریم ورک بنانے کی تجویز

W
Web Desk
28 جون، 2026
ایران کی خلیجی ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر مشترکہ سکیورٹی فریم ورک بنانے کی تجویز

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران خلیجی ممالک پر بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بیرونی مداخلت سے پاک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک تشکیل دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک میں خطے کے تمام ممالک شامل ہوں اور کسی بھی بیرونی طاقت کی موجودگی یا مداخلت نہ ہو۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز آئندہ 30 روز تک مکمل طور پر ایران کی نگرانی میں رہے گی، جبکہ خلیج میں بحری آمدورفت کی بحالی کے عمل میں کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ جنگ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہے اور تمام ممالک کو امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا ہے اور دونوں ممالک نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بغداد پہنچنے پر عراقی حکومت کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی مکمل بحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر عراق کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو لبنان کے زیر قبضہ علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے، جبکہ امریکہ پر زور دیا کہ وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اسرائیل کو لبنان پر حملوں سے روکے، کیونکہ یہ ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی کشیدگی برقرار ہے اور حالیہ جھڑپوں کے باعث عراقی تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

فواد حسین نے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک مغربی ایشیا میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ عراق نے ہمیشہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مخالفت کی ہے اور خطے میں سکیورٹی کے فروغ کے لیے ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا تسلسل پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے، اس لیے سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 28 جون، 2026 کو 12:50 PM

آخری تدوین: 28 جون، 2026

متعلقہ مضامین

 فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع کی اہم ملاقات
پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع کی اہم ملاقات

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے، سعودی عرب پر حملوں اور مشترکہ دفاعی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر دفاع نے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا

Web Desk26 ستمبر، 2026
 سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس
تازہ ترین

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی معاونت، مشترکہ دفاع اور معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔ نیویارک میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات میں بھی اجلاس کی تیاریوں اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا

Web Desk25 ستمبر، 2026
غزہ میں ڈرون دھماکا، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک
تازہ ترین

غزہ میں ڈرون دھماکا، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک

شمالی غزہ میں فوجی چوکی کے اندر ڈرون گر کر تباہ ہونے کے بعد دھماکا، اسرائیلی فوج کے مطابق 2 فوجی ہلاک ہوگئے

Web Desk25 ستمبر، 2026