پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد میں دنیا میں پہلے نمبر پر، آبادی 2050 تک 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے: احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 37 سے 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ہیپاٹائٹس فری بنانے کے اقدامات جاری ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ اگر آبادی پر مؤثر انداز میں قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک ملک کی آبادی 37 سے 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
اسلام آباد میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اینڈ لانچ آف ڈویلپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں پالیسیوں کے عدم تسلسل نے ترقی کے سفر کو بار بار متاثر کیا۔ ان کے مطابق کسی بھی قومی منصوبے کی کامیابی کے لیے کم از کم 10 سے 15 سال تک پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پورا پالیسی فریم ورک تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث ویژن 2020 اور ویژن 2025 جیسے اہم منصوبے بھی سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی صورت میں بہترین منصوبے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ٹوٹا ہوا سماجی و اقتصادی ڈھانچہ درپیش ہے۔ ان کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، جبکہ تعلیم، صحت، آبادی، نوجوانوں اور خواتین کو ترقی کا بنیادی ستون بنائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور اگر آبادی میں اضافے کی رفتار پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک یہ تعداد 37 سے 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی اور خوراک کا تحفظ بھی شدید خطرات سے دوچار ہے، اس لیے آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ہیپاٹائٹس سی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں، جس کے باعث ملک دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں کو ہیپاٹائٹس فری ریجن بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی ہیپاٹائٹس فری بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو ہیپاٹائٹس فری بنانے کے قومی مشن میں بھرپور تعاون کریں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 29 جولائی، 2026 کو 01:47 PM
آخری تدوین: 29 جولائی، 2026



