چیف جسٹس یحییٰ آفریدی: بروقت انصاف کی فراہمی ضروری، عوامی اعتماد دیانت داری سے حاصل ہوتا ہے


چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بروقت انصاف کی فراہمی ضروری ہے اور عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا بلکہ دیانت داری سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے ضلعی عدالتوں کو نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد رکھنے، عدالتوں میں سولر، انٹرنیٹ اور ای لائبریری کی سہولیات فراہم کرنے سمیت ایکسس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت 3 ارب روپے سے زائد فنڈز جاری ہونے سے آگاہ کیا
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی، جبکہ عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا بلکہ دیانت داری اور بہتر کارکردگی سے حاصل کیا جاتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوجوان ججز پر زور دیا کہ وہ بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی عدالتیں نظامِ انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹس کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں انصاف کی فراہمی کے لیے درکار ضروریات کی فہرست بھجوائیں، ملک بھر میں جامع نظامِ انصاف کے لیے عدلیہ کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ عدالتی ضابطہ اخلاق میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور ججز کو ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کو سولر نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے، عدلیہ کو بہترین انٹرنیٹ سہولت اور ای لائبریریز فراہم کی جائیں گی۔ بلوچستان کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے، جبکہ خواتین اور بچوں کے لیے سہولت مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ انہیں ماتحت عدلیہ پر فخر ہے۔ ملک بھر کے جوڈیشل افسران کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے کوڈ آف کنڈیکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ماتحت عدلیہ کے ججز کو بااختیار بنانا عدلیہ کا مقصد ہے۔ مشکلات کے باوجود ماتحت عدلیہ کے ججز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ سولر، انٹرنیٹ اور صاف پانی جیسی سہولیات کی فراہمی میں صوبائی حکومت کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ عدلیہ میں بہتری اور انصاف تک رسائی کے پروگرام ایکسس ٹو جسٹس کے تحت رواں سال 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے، جبکہ ماضی میں 20 سال کے دوران اسی پروگرام کے تحت صرف 90 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے 18 اضلاع میں سولر، پانی اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی اضلاع میں بھی ایک ماہ کے اندر بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں گی۔

شائع ہوا: 12 ستمبر، 2026 کو 08:03 AM
آخری تدوین: 12 ستمبر، 2026



