سرحد یونیورسٹی میں طاقت کا مبینہ بے جا استعمال، فوجی افسر کی طلبہ پر فائرنگ، شدید احتجاج

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر ایک حاضر سروس فوجی افسر کی جانب سے اسلحہ لہرانے، طلبہ پر تشدد اور فائرنگ کے واقعے نے شدید تشویش پیدا کردی۔ طلبہ نے طاقت کے مبینہ ناجائز استعمال، پولیس کے کردار اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اے آئی جی آپریشنز کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے قانون کے مطابق کارروائی کی یقین دہانی کرائی
اسلام آباد: سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک فوجی افسر کی جانب سے مبینہ طور پر طلبہ پر اسلحہ تاننے، تشدد کرنے اور فائرنگ کرنے کے واقعے نے طاقت کے ناجائز استعمال اور قانون کی بالادستی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی میں طلبہ اپنے شعبے کے سربراہ کے حق میں احتجاج کررہے تھے، جنہیں انتظامی تنازع کے باعث مبینہ طور پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔ احتجاج کے دوران یونیورسٹی کی ایک خاتون اہلکار اور طلبہ کے درمیان تلخ کلامی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق خاتون اہلکار کے شوہر، جو ایک حاضر سروس فوجی افسر ہیں، مبینہ طور پر یونیورسٹی پہنچے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں وردی میں ملبوس ایک شخص کو طلبہ کے ہجوم کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ جھڑپ کے دوران ایک طالب علم کو مبینہ طور پر ڈنڈے نما چیز سے مارنے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔ بعد ازاں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

طلبہ کا الزام ہے کہ افسر نے پہلے مظاہرین پر براہ راست فائر کرنے کی کوشش کی تاہم بعد میں مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کی۔
واقعے کے بعد طلبہ نے سوال اٹھایا کہ ایک مسلح فوجی افسر یونیورسٹی کے اندر جاری شہری احتجاج میں وردی اور ہتھیار کے ساتھ کس قانونی اختیار کے تحت موجود تھا اور طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت اسے کس قانون نے دی؟

طلبہ نے پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صورتحال بگڑنے کے باوجود بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔
طالبات نے مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات بھی عائد کیے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

طلبہ سے مذاکرات کے لیے پہنچنے والے اے آئی جی آپریشنز کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے یقین دہانی کرائی کہ فائرنگ کرنے والا شخص خواہ وردی میں ہو یا حاضر سروس افسر، قانون کے مطابق اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق فوجی قانون بھی ہر افسر پر لاگو ہوتا ہے۔
بعد ازاں فوجی افسر کو حراست میں لیے جانے اور تحقیقات شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سینئر صحافی حامد میر نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان آرمی نے فوری نوٹس لیا اور متعلقہ افسر کو حراست میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے۔
سرحد یونیورسٹی کا واقعہ اس بنیادی سوال کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے کہ کیا کسی بھی طاقتور یا بااثر ادارے سے تعلق رکھنے والے فرد کو قانون سے بالاتر ہوکر شہریوں، بالخصوص طلبہ، کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے؟ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں اور کارروائی عہدے یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر کی جائے۔
شائع ہوا: 24 اگست، 2026 کو 06:51 PM
آخری تدوین: 24 اگست، 2026



