شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی سے مذاکرات، کشیدگی کم کرنے پر غور

شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے، جن میں اسرائیلی حملوں، فوجی کارروائیوں اور کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ شامی حکام نے گولان کی پہاڑیوں کو مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کے انخلا اور 1974 کے معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے حالیہ دورہ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار سے ملاقاتوں میں سکیورٹی و اقتصادی تعاون پر بھی اہم بات چیت ہوئی
امریکی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے ہیں، جن کا مقصد شام میں حالیہ اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
شامی سرکاری خبر رساں ادارے سنا کے مطابق شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور شامی انٹیلی جنس حکام نے اردن میں اسرائیلی وفد سے ملاقات کی، جبکہ امریکا نے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا۔
مذاکرات کے دوران شام میں حالیہ اسرائیلی حملوں، گرفتاریوں، ٹارگٹڈ کارروائیوں اور دیگر فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے ممکنہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شامی حکام نے واضح کیا کہ گولان کی پہاڑیاں مقبوضہ شامی علاقہ ہیں اور اس کی حتمی حیثیت پر اس مرحلے میں بات چیت کرنا قبل از وقت ہے۔
شام نے مذاکرات میں مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فوجی 8 دسمبر 2024 سے پہلے والی پوزیشنوں تک واپس جائیں اور 1974 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ شامی مؤقف کے مطابق اسرائیلی افواج کی حالیہ پیش قدمی اور حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھی ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی ثالثی میں ہونے والی یہ ملاقات دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال کرنے اور مزید فوجی کشیدگی کو روکنے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے 14 اگست کو شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق گفتگو میں شام میں ترکیے کی فوجی موجودگی سمیت مختلف سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شام اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں اہم پیش رفت ہے، تاہم گولان کی پہاڑیوں، اسرائیلی فوجی انخلا اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں جیسے حساس معاملات پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔
شامی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان
شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے گزشتہ دنوں 19 سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔
اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں پاکستان اور شام کے درمیان سکیورٹی اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کے نئے دور کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔
پاکستان نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے متعلق شام کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔
شامی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
شائع ہوا: 24 اگست، 2026 کو 05:17 AM
آخری تدوین: 24 اگست، 2026



