پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم "اپنا" کے ڈے کیئر میںکروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں معروف کمیونٹی شخصیت سمیت آٹھ پاکستانی گرفتار گرفتار

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگیا ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے
( نیویارک) امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگیا ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور کمیونٹی رہنما پرویز صدیقی سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

وفاقی استغاثہ کے مطابق 78 سالہ پرویز صدیقی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بروکلین میں قائم دو سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر مراکز، APNA Adult Daycare اور Ashiana Social Adult Daycare کے ذریعے 2019 سے دسمبر 2025 تک میڈیکیڈ فنڈز میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کم آمدنی والے بزرگوں کو نقد رقم دے کر ان مراکز میں رجسٹر کراتے تھے، حالانکہ ان میں سے اکثر کبھی مراکز میں آئے ہی نہیں۔ بعد ازاں انہی افراد کے نام پر میڈیکیڈ سے لاکھوں ڈالر کے جعلی کلیمز وصول کیے جاتے رہے

عدالتی دستاویزات کے مطابق شازیہ بی بی (شازیہ وٹو)، عبدالعزیز، شیر علی، زیبون احمد، جوسنا بیگم، سائرہ خاتون اور عطیہ شہناز بھی اس مبینہ اسکیم کا حصہ تھے۔ الزام ہے کہ گروہ نے جعلی حاضری رجسٹر تیار کیے، پاکستان میں موجود بلنگ اسٹاف کے ذریعے ریکارڈ مرتب کیا اور رقم کو مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعے "تحائف"، "ڈیویڈنڈ" اور "لڈو" جیسے کوڈ الفاظ استعمال کرکے منتقل کیا

وفاقی حکام کے مطابق دسمبر 2025 میں چھاپے کے بعد بعض ملزمان نے عملے کو موبائل فون تبدیل کرنے اور ڈیٹا حذف کرنے کی ہدایات بھی دیں تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق پرویز صدیقی نیو جرسی میں متعدد فارمیسیوں کے مالک ہیں اور برسوں سے ڈیموکریٹک سیاست دانوں کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ مختلف انتخابی مہمات کے لیے ہزاروں ڈالر کے عطیات بھی دیتے رہے ہیں اور نیویارک کی سیاسی شخصیات تک خصوصی رسائی رکھتے تھے

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض رجسٹرڈ افراد امریکہ میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ پاکستان، مراکش اور دیگر ممالک میں مقیم ہونے کے باوجود ان کے نام پر میڈیکیڈ ادائیگیاں جاری رہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض خاندان میڈیکیڈ کارڈ فراہم کرنے کے بدلے ماہانہ 500 ڈالر تک وصول کرتے تھے

یہ اسکینڈل نیویارک میں میڈیکیڈ نظام کی نگرانی اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فراڈ کے ذریعے امریکی ٹیکس دہندگان کے کروڑوں ڈالر ضائع کیے جا رہے ہیں

Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 19 جون، 2026 کو 03:36 AM
آخری تدوین: 19 جون، 2026



