ججز کی تقرری: صدر کسی بھی سمری کو منظور، واپس یا مسترد کر سکتے ہیں، ذرائع ایوانِ صدر

ذرائع ایوانِ صدر کے مطابق صدر مملکت آئین کے تحت ججز کی تقرری سے متعلق کسی بھی سمری کا جائزہ لے کر اسے منظور، واپس یا مسترد کر سکتے ہیں۔ ذرائع نے جوڈیشل کمیشن کو نامکمل معلومات فراہم کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا
(اسلام آباد)ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کے معاملے پر جاری آئینی بحث کے دوران ایوانِ صدر کے ذرائع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر مملکت کا منصب ایک آئینی عہدہ ہے اور وہ کسی بھی سمری پر آئین کے مطابق اپنی صوابدید استعمال کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئین کے تحت صدر مملکت کسی بھی سمری کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اسے منظور، واپس یا مسترد کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کا منصب محض رسمی یا "پوسٹ آفس" نہیں بلکہ ایک آئینی ادارہ ہے جس کے اختیارات اور ذمہ داریاں آئین میں واضح طور پر درج ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ قانون سازی سے متعلق معاملات میں اگر پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی بل دوبارہ بھیجا جائے تو صدر کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں، تاہم دیگر انتظامی سمریوں اور ایڈوائس کے معاملات میں صدر اپنی آئینی صوابدید استعمال کر سکتے ہیں۔
ایوانِ صدر کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین کے مطابق صدر کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، اگر ججز کی تقرری کا معاملہ کسی عدالتی فورم پر زیر بحث آیا تو یہ مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ جوڈیشل کمیشن کو نامزد امیدواروں سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعض امیدواروں کے خلاف فوجداری مقدمات سے متعلق معلومات کمیشن کے سامنے نہیں رکھی گئیں، جبکہ جوڈیشل کمیشن رولز کے مطابق پیشہ ورانہ اہلیت کے ساتھ ساتھ صنفی، مذہبی اور علاقائی نمائندگی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا۔
ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کی نمائندگی کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ ایک امیدوار کو راولپنڈی سے تعلق رکھنے والا ظاہر کیا گیا، حالانکہ وہ جہلم کی رہائشی اور اسلام آباد بار کی رکن و سابق سیکرٹری رہی ہیں۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ جن امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا، ان میں سے بعض کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں منتخب امیدواروں سے بہتر تھیں۔ ان کے مطابق اگر معاملہ عدالت میں گیا تو تمام امیدواروں کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے، ان کا تقابلی جائزہ لینے اور معاملہ دوبارہ جوڈیشل کمیشن کو بھیجنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔
تاہم یہ تمام نکات ایوانِ صدر کے ذرائع سے منسوب دعوے اور مؤقف ہیں، جن پر متعلقہ اداروں یا جوڈیشل کمیشن کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 04:37 AM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



