برنی سینڈرز: غزہ میں ہونے والے واقعات میں امریکا بھی برابر کا شریک، اسرائیل کی فوجی امداد فوری روکی جائے


امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران میں امریکا بھی برابر کا شریک ہے کیونکہ اس نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی۔ انہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کی فوجی امداد فوری طور پر بند کی جائے
واشنگٹن: امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں امریکا بھی برابر کا شریک ہے کیونکہ واشنگٹن نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔
اپنے بیان میں برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کے باوجود امریکا مسلسل اس کی فوجی اور مالی معاونت کرتا رہا، جس کی وجہ سے غزہ میں جاری انسانی بحران مزید سنگین ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور اپنی پیش قدمی کا سلسلہ نہیں روکا۔ ان کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور متعدد نئی فوجی چوکیاں بھی قائم کی ہیں۔
برنی سینڈرز نے دعویٰ کیا کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کی حامی ہے، لہٰذا کانگریس کو عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے فوجی امداد فوری طور پر روک دینی چاہیے۔
امریکی سینیٹر نے غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے کئی ماہ بعد بھی فلسطینی عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کے 92 فیصد رہائشی مکانات تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 70 فیصد آبادی مناسب رہائش سے محروم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے 91 فیصد بچوں کو باقاعدہ تعلیم تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ 70 فیصد کم عمر بچے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
برنی سینڈرز نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت غزہ پر مستقل قبضے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شائع ہوا: 27 جولائی، 2026 کو 12:53 PM
آخری تدوین: 27 جولائی، 2026



