برطانیہ کا مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف بڑا اعلان


برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تعمیر فوری روکنے کا مطالبہ کردیا۔ برطانیہ نے مزید انتہاپسند اسرائیلی آباد کاروں اور آباد کاری میں مدد کرنے والی کمپنیوں پر پابندیوں کا اعلان کیا
لندن: برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے غیر قانونی بستیوں کی تعمیر فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ مزید انتہاپسند اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرے گا، جبکہ ان کمپنیوں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسرائیلی آباد کاری کے تعمیراتی کاموں میں معاونت کر رہی ہیں۔
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد میں ملوث افراد کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور اسرائیل کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف اس کے عملی اقدامات کی بنیاد پر طے ہوگا۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے 30 لائسنس پہلے ہی معطل کیے جا چکے ہیں، جبکہ فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا کے خلاف پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔
### غزہ کی صورتحال پر بھی برطانیہ کا سخت مؤقف
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ غزہ کے عوام گزشتہ تین سال سے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں، ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں گھر تباہ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں اور عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ غزہ کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی حمایت کرتا ہے اور سیزفائر کے باوجود فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر تشویش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور یہ برطانوی حکومت کی پالیسی ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

شائع ہوا: 8 ستمبر، 2026 کو 03:52 PM
آخری تدوین: 8 ستمبر، 2026



