سینٹکام کا دعویٰ: تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں ایران کے فوجی اہداف پر فضائی کارروائی

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کے جواب میں ایران کے فوجی اہداف، فضائی دفاعی نظام، مواصلاتی مراکز اور ڈرون تنصیبات پر فضائی کارروائی کی گئی
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کے جواب میں ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، جو آبنائے ہرمز کے قریب تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر گزر رہا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق اس حملے کے جواب میں ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے گئے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 27 جون کو انجام دی گئیں اور ان کا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
تاہم ایران کی جانب سے سینٹکام کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 جون، 2026 کو 02:01 AM
آخری تدوین: 28 جون، 2026



