وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

چین میں 90 ارب روپے کی رشوت ثابت، سابق سرکاری افسر کو سزائے موت

W
Web Desk
8 جولائی، 2026
چین میں 90 ارب روپے کی رشوت ثابت، سابق سرکاری افسر کو سزائے موت

چین میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً 2 ارب 20 کروڑ یوان (90 ارب پاکستانی روپے) رشوت لینے کے جرم میں ایک سابق سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا

(بیجنگ) چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری سخت کریک ڈاؤن کے تحت ایک سابق سرکاری افسر کو تقریباً 2 ارب 20 کروڑ یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔ پاکستانی کرنسی میں اس رشوت کی مالیت تقریباً 90 ارب روپے بنتی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق چینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم کے خلاف کرپشن کے الزامات ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت ہوئے ہیں اور اس نے اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ذرائع سے بھاری مقدار میں رشوت وصول کی۔

عدالت نے کہا کہ اگرچہ ملزم نے دورانِ تفتیش حکام سے تعاون کیا اور بعض معاملات میں اعتراف بھی کیا، تاہم جرم کی سنگینی، رشوت کی غیر معمولی مالیت اور عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان کے باعث سزا میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

عدالتی فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ چین میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔ چینی قوانین کے مطابق اگر ایک ارب یوان سے زائد مالیت کی بدعنوانی ثابت ہو جائے تو مجرم کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف سخت سزاؤں کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ ایسے فیصلوں کے ذریعے بدعنوانی کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ چین میں ماضی میں بھی متعدد اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو بڑے پیمانے پر کرپشن کے مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ 2022 میں سابق وزیرِ انصاف فو ژینگ ہوا (Fu Zhenghua) کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں دو سالہ معطل سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ 2024 میں ژانگ ژونگ شینگ (Zhang Zhongsheng) سمیت کئی اعلیٰ حکام کو اربوں یوان کی رشوت لینے پر سزائے موت کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 8 جولائی، 2026 کو 04:19 AM

آخری تدوین: 8 جولائی، 2026

متعلقہ مضامین

وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی پیشکش
پاکستان

وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی پیشکش

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرکے حکومت سے مذاکرات کی پیشکش کردی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لانگ مارچ ختم کیا جائے تو حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھ کر بامعنی مذاکرات کرے گی، جبکہ دھرنوں اور احتجاج کی سیاست سے ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے

Web Desk6 اکتوبر، 2026
محمود اچکزئی کی اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات سے متعلق اہم ہدایات
صفحہ اول

محمود اچکزئی کی اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات سے متعلق اہم ہدایات

محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے ہدایات جاری کردیں۔ ذرائع کے مطابق حکومتی رابطے پر مثبت جواب دینے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو پہلی شرط قرار دیا گیا ہے، جبکہ بہنوں کی رہائی کو مثبت پیشرفت کا آغاز قرار دیا گیا ہے

Web Desk6 اکتوبر، 2026
اس بار جو مارچ نکلا، اس کے بعد پاکستان میں مارچ نہیں ہوگا، طلال چوہدری
پاکستان

اس بار جو مارچ نکلا، اس کے بعد پاکستان میں مارچ نہیں ہوگا، طلال چوہدری

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات میں تعطل کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق ہوچکا تھا، تاہم آخری مرحلے میں اختلافات پیدا ہوئے

Web Desk6 اکتوبر، 2026