چین میں 90 ارب روپے کی رشوت ثابت، سابق سرکاری افسر کو سزائے موت

چین میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً 2 ارب 20 کروڑ یوان (90 ارب پاکستانی روپے) رشوت لینے کے جرم میں ایک سابق سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا
(بیجنگ) چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری سخت کریک ڈاؤن کے تحت ایک سابق سرکاری افسر کو تقریباً 2 ارب 20 کروڑ یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔ پاکستانی کرنسی میں اس رشوت کی مالیت تقریباً 90 ارب روپے بنتی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق چینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم کے خلاف کرپشن کے الزامات ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت ہوئے ہیں اور اس نے اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ذرائع سے بھاری مقدار میں رشوت وصول کی۔
عدالت نے کہا کہ اگرچہ ملزم نے دورانِ تفتیش حکام سے تعاون کیا اور بعض معاملات میں اعتراف بھی کیا، تاہم جرم کی سنگینی، رشوت کی غیر معمولی مالیت اور عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان کے باعث سزا میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔
عدالتی فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ چین میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔ چینی قوانین کے مطابق اگر ایک ارب یوان سے زائد مالیت کی بدعنوانی ثابت ہو جائے تو مجرم کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف سخت سزاؤں کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ ایسے فیصلوں کے ذریعے بدعنوانی کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ چین میں ماضی میں بھی متعدد اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو بڑے پیمانے پر کرپشن کے مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ 2022 میں سابق وزیرِ انصاف فو ژینگ ہوا (Fu Zhenghua) کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں دو سالہ معطل سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ 2024 میں ژانگ ژونگ شینگ (Zhang Zhongsheng) سمیت کئی اعلیٰ حکام کو اربوں یوان کی رشوت لینے پر سزائے موت کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 جولائی، 2026 کو 04:19 AM
آخری تدوین: 8 جولائی، 2026



