جنوبی ایران پر امریکی حملے کھلی جارحیت ہیں، ایران کا سخت ردعمل، فیصلہ کن جواب کی دھمکی

ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ ایرانی فوج نے امریکی کارروائی کا فیصلہ کن جواب دینے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے
(تہران) ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کارروائی کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران کے مرحوم سپریم لیڈر کی میت عراق میں آخری رسومات کے سلسلے میں موجود تھی، جسے ایران نے انتہائی اشتعال انگیز اقدام قرار دیا۔
بیان کے مطابق ایران کی مسلح افواج امریکی کارروائیوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور قومی سلامتی کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے مزید واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کا واحد راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی ایران نے کی ہے، اور خطے میں بحری سلامتی سے متعلق تمام فیصلے ایران کی خودمختاری اور علاقائی قوانین کے مطابق ہوں گے۔
ایرانی حکام کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 جولائی، 2026 کو 03:43 AM
آخری تدوین: 8 جولائی، 2026



