سی آئی اے چیف کا ماسکو میں خفیہ مشن، روس کو نیٹو پر حملے کے سنگین نتائج سے خبردار کرنے کا دعویٰ

سی آئی اے چیف جان ریٹکلف کے ماسکو دورے نے عالمی توجہ حاصل کرلی۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق روس کو نیٹو پر حملے کے سنگین نتائج سے خبردار کیا گیا، جبکہ کریملن نے روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی تصدیق کردی
ماسکو/واشنگٹن: امریکا اور روس کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سی آئی اے چیف جان ریٹکلف کے ماسکو کے اچانک دورے نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ریٹکلف نے روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی اور مبینہ طور پر ماسکو کو نیٹو کے کسی رکن ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔
کریملن نے سی آئی اے چیف کے ماسکو پہنچنے اور روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی تصدیق کردی ہے۔ تاہم روسی حکام کے مطابق جان ریٹکلف کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات نہیں ہوئی۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ریٹکلف کی روسی حکام سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں صدر پیوٹن کو فوری طور پر بریف کیا گیا۔ ماسکو نے تاہم مذاکرات کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
روس کی جانب سے نیٹو کو آزمانے کا خدشہ
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس نے روسی خطرے کا تازہ جائزہ لیا ہے، جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ روس مستقبل میں نیٹو کے عزم کو جانچنے کے لیے محدود نوعیت کی کارروائی کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں ممکنہ خطرات میں سائبر حملے، ہائبرڈ کارروائیاں اور محدود زمینی یا فوجی آپریشن شامل کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ماسکو کسی محدود کارروائی کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کرسکتا ہے کہ نیٹو ممالک اور امریکا اس کا کس حد تک جواب دیتے ہیں۔
پیوٹن سے ملاقات نہیں ہوئی
کریملن کے مطابق جان ریٹکلف نے ماسکو میں روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی، لیکن صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ان کی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی۔
روسی انٹیلی جنس حکام نے امریکی سی آئی اے چیف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو اہم قرار دیا ہے، تاہم ملاقات کے ایجنڈے اور زیرِ بحث معاملات کے بارے میں سرکاری طور پر زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکا اور روس کے درمیان خفیہ رابطے اہم کیوں ہیں؟
جان ریٹکلف کا ماسکو دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور روس کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں اور یوکرین جنگ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی انٹیلی جنس قیادت کے درمیان براہِ راست رابطہ کسی ممکنہ غلط فہمی یا غیر ارادی فوجی تصادم کو روکنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تاہم سی آئی اے چیف کے دورے اور روس کو مبینہ انتباہ نے یورپ میں سلامتی کی صورتحال اور نیٹو کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ روس کی جانب سے نیٹو پر حملے کے کسی منصوبے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ ماسکو نے امریکی میڈیا کی بعض رپورٹس کے اندازِ بیان کو بھی مسترد کیا ہے۔
شائع ہوا: 28 اگست، 2026 کو 02:21 AM
آخری تدوین: 28 اگست، 2026



