غیر ملکی خواتین اغوا کیس: پانچواں ملزم گرفتار، ایک متاثرہ خاتون سے زیادتی کی ابتدائی تصدیق

لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور تاوان کیس میں پانچواں ملزم گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ایک متاثرہ خاتون سے جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی، جبکہ ڈی این اے اور فرانزک رپورٹس کا انتظار ہے
(لاہور) صوبائی دارالحکومت کے علاقے ڈیفنس سی میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد، جنسی زیادتی اور تاوان طلبی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے پانچویں نامزد ملزم کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید تین افراد کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس اور تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں وینزویلا سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج ڈی این اے اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین اور ملزمان کے ڈی این اے نمونے اور موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ تفتیش فرانزک شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر آگے بڑھائی جائے گی۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم رضا ڈار نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے نواسے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان اور متاثرہ خواتین کے درمیان کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری موجود تھی، جس کی مالیت تقریباً چار سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
الزام ہے کہ ملزمان نے متاثرہ خواتین کے ڈیجیٹل والٹ سے تقریباً 19 ہزار امریکی ڈالر بھی منتقل کروائے۔
دوسری جانب وینزویلا سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون ایسٹرڈ روبنسن کا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے دوسری متاثرہ خاتون کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے اغوا، تشدد، جان سے مارنے کی دھمکیوں اور جنسی زیادتی کے الزامات دہرائے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں رضا ڈار سے ملاقات کے بعد انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی اور ان کے ویزوں کا بھی انتظام کیا گیا۔ دونوں خواتین 29 جون کو پاکستان پہنچیں، جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں نیدرلینڈز میں موجود ایک خاتون کے والد کی اطلاع پر پولیس نے دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر جاری ہے اور تمام قانونی کارروائی شواہد، فرانزک تجزیے اور ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر مکمل کی جائے گی۔ اس مرحلے پر مقدمے میں شامل تمام الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور تفتیشی نتائج کی روشنی میں ہوگا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 4 جولائی، 2026 کو 09:04 PM
آخری تدوین: 4 جولائی، 2026



