نیپال اور چین کی سرحد پر تباہ کن سیلاب، 157 افراد ہلاک، 384 سیاح لاپتا

نیپال اور چین کے علاقے تبت کی سرحد پر شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، کم از کم 157 افراد ہلاک اور 384 سیاح لاپتا ہو گئے۔ نیپال میں مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے تباہ جبکہ چین کے سرحدی علاقے گیرونگ میں بھی سڑکوں، مواصلات اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں
نیپال اور چین کے علاقے تبت کی سرحد پر مٹی اور چٹانیں دریا میں گرنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 157 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں سیاح لاپتا ہو گئے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز پیش آنے والے اس المناک واقعے کی ویڈیوز میں متعدد افراد کو اچانک آنے والے خوفناک سیلابی ریلے سے جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تیز رفتار پانی، مٹی اور چٹانوں کے ریلے نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارتوں، گاڑیوں اور دیگر تنصیبات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

نیپال میں سیلابی ریلے کے باعث متعدد مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے تباہ ہو گئے، جبکہ چین کے علاقے تبت میں بھی سرحدی گزرگاہ اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

چینی حکام کے مطابق نیپالی سرحد کے قریب مٹی کا تودہ گرنے سے گیرونگ پورٹ متاثر ہوا، جبکہ سرحدی علاقے میں سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

نیپال کی ٹورازم اتھارٹی کے مطابق متاثرہ علاقے میں کم از کم 384 سیاح لاپتا ہیں، جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 12 برطانوی اور 3 امریکی شہری شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کی خبررساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق 8 جنوبی کوریائی شہری بھی لاپتا ہیں۔

نیپالی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اب تک 157 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

چین کی جانب سے جاری سکیورٹی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرحدی علاقے میں اچانک مٹی، چٹانوں اور پانی کا ایک بلند و خوفناک ریلا آیا، جس نے مختصر وقت میں بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق گیرونگ لینڈ کراسنگ پر 574 امدادی کارکنوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ متعدد راستوں پر مٹی اور ملبے کی تہہ تقریباً پانچ فٹ تک جمع ہو چکی ہے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق بعض مقامات تک پہنچنے میں کم از کم چار گھنٹے لگ رہے ہیں۔

دوسری جانب نیپال میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث بھارت کی شمالی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں بھی سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ پہاڑی علاقوں سے آنے والے دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے میدانی علاقوں میں بھی صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
شائع ہوا: 26 اگست، 2026 کو 06:44 PM
آخری تدوین: 26 اگست، 2026



