وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

پیپلز پارٹی کے سندھ کی تقسیم پر مؤقف سے اختلاف، خواجہ آصف نے سوال اٹھا دیے

W
Web Desk
5 ستمبر، 2026
 پیپلز پارٹی کے سندھ کی تقسیم پر مؤقف سے اختلاف، خواجہ آصف نے سوال اٹھا دیے
international seerat conference

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی کے سرائیکی صوبے اور سندھ کی تقسیم سے متعلق مؤقف پر سوالات اٹھا دیے۔ 18ویں ترمیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس پر بھی اہم تجاویز سامنے آگئیں۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کی صدر آصف علی زرداری سے پانچ گھنٹے طویل ملاقات، سندھ کی تقسیم پر پیپلز پارٹی کے مؤقف پر قائم رہنے کا فیصلہ، ذرائع کا دعویٰ

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی کے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں الگ سرائیکی صوبے کے مطالبے کی بظاہر حمایت کرتی ہے، تاہم ملک کے انتظامی ڈھانچے کی وسیع تر تنظیمِ نو کی بات کی جائے تو سندھودیش کا معاملہ سامنے لے آتی ہے۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے اس بظاہر متضاد مؤقف کے پیچھے کچھ اور معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اپنے خدشات کی وضاحت کریں گے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ قومی شناخت سب سے مقدم ہونی چاہیے، ہم پہلے اور آخر تک پاکستانی ہیں۔

انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات کی نچلی سطح تک مؤثر منتقلی پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم نے اختیارات کی منتقلی کا اصول تو وضع کیا، تاہم عملی طور پر اختیارات اب بھی بالائی سطحوں پر مرکوز ہیں اور نظام کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ نہیں کیا گیا۔

خواجہ آصف کے مطابق جمہوریت کو نچلی سطح پر مضبوط بنانے اور عوام کو سرکاری اداروں و بنیادی خدمات سے براہِ راست فائدہ پہنچانے کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

وزیر دفاع نے تجویز دی کہ پاکستان کی موجودہ 36 ڈویژنز کو انتظامی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے، جبکہ جغرافیائی بنیادوں پر کسی دوسرے ماڈل پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کو نچلی انتظامی سطح تک منتقل کرنا بالآخر ناگزیر ہے۔

بلاول بھٹو کی صدر زرداری سے طویل ملاقات

دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے طویل ملاقات ہوئی، جس میں بختاور زرداری بھی شریک تھیں جبکہ ان کے بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران فریال تالپور کی حالیہ تقریر بھی زیر بحث آئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے مؤقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور بختاور زرداری اپنی رہائش گاہ روانہ ہوگئے۔

نوٹ: سندھ کی تقسیم سے متعلق ملاقات میں فیصلے کا دعویٰ ذرائع سے منسوب ہے، اس لیے اسے حتمی سرکاری مؤقف کے طور پر نہیں بلکہ ذرائع کے دعوے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

international seerat conference
شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 5 ستمبر، 2026 کو 05:09 AM

آخری تدوین: 5 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین