ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی پوتن سے ملاقات، یوکرین بحران کے حل پر اہم گفتگو


ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات میں یوکرین جنگ کے خاتمے اور ممکنہ حل پر تجاویز زیر بحث آئیں
ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی، جس میں یوکرین تنازع کے خاتمے سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی وفد کا طیارہ ماسکو کے ونوکووا ہوائی اڈے پر مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 52 منٹ پر پہنچا، جہاں روسی صدر کے غیر ملکی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے خصوصی نمائندے اور روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ کیریل دیمترییف نے وفد کا استقبال کیا۔
بعد ازاں امریکی نمائندوں نے کریملن میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ مذاکرات تقریباً 3 گھنٹے اور 10 منٹ تک جاری رہے۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے ملاقات کو بامقصد، تعمیری، انتہائی کھلا اور اعتماد پر مبنی قرار دیا۔

ان کے مطابق بات چیت صرف رسمی اجلاس تک محدود نہیں رہی بلکہ کھانے کی میز پر غیر رسمی ماحول میں بھی مذاکرات جاری رہے۔
مذاکرات میں روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف اور کیریل دیمترییف نے بھی شرکت کی۔ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا یہ روس کا آٹھواں دورہ تھا۔
یوکرین جنگ کے خاتمے پر تجاویز زیر بحث
یوری اوشاکوف کے مطابق امریکی نمائندے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر یوکرین بحران کے حل سے متعلق بات چیت جاری رکھنے اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے ماسکو پہنچے تھے۔

ملاقات کے آغاز میں صدر ولادیمیر پوتن نے وٹکوف اور کشنر کی سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ روسی صدر نے کہا کہ روس کو دونوں امریکی نمائندوں کے ساتھ کام کرنے میں سہولت محسوس ہوتی ہے اور سفارتی عمل میں اعتماد کی سطح بلند ہے۔
پوتن نے امریکی مذاکرات کاروں کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور یوکرین تنازع کے حل کی کوششوں اور فریقین کے لیے قابل قبول تصفیے تک جلد پہنچنے میں مدد کی امریکی خواہش پر شکریہ ادا کیا۔
روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ امریکی نمائندے ماسکو کے بعد کیف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں، اس نوعیت کے رابطے ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
روس نے اپنے مؤقف سے امریکی وفد کو آگاہ کیا
ولادیمیر پوتن نے امریکی وفد کو یوکرین تنازع کے حوالے سے روسی مؤقف اور موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔
مذاکرات کے بعد یوری اوشاکوف نے بتایا کہ امریکی نمائندوں نے ماسکو دورے کے لیے سنجیدہ تیاری کی تھی۔ انہوں نے یوکرین میں جاری فوجی کارروائیوں کو جلد ختم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور تنازع کے ممکنہ حل کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔
اوشاکوف کے مطابق روسی فریق نے موجودہ صورت حال کا جامع جائزہ پیش کیا۔ مذاکرات میں میدان جنگ میں روسی فوج کی پیش قدمی، مقررہ اہداف کے حصول پر روسی اعتماد اور یوکرین تنازع کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
پوتن اور ٹرمپ کے درمیان رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ
کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہ راست رابطے جاری رہیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ذریعے روس اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
حالیہ ملاقات کو روس اور امریکا کے درمیان یوکرین تنازع کے ممکنہ سفارتی حل کی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تنازع کے حتمی حل کے لیے دونوں جانب سے مزید مذاکرات اور بات چیت درکار ہوگی۔

شائع ہوا: 6 ستمبر، 2026 کو 03:17 AM
آخری تدوین: 6 ستمبر، 2026



