کراچی کے کارڈیالوجسٹس نے عالمی طبی تحقیق میں پاکستان کا نام روشن کردیا


دل کے دورے کے علاج سے متعلق عالمی تحقیق میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ہر مریض کی بند شریان میں اسٹنٹ ڈالنا ضروری نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے غیر ضروری اسٹنٹ سے بچتے ہوئے علاج کے بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں
کراچی: کراچی کے کارڈیالوجسٹس نے عالمی سطح پر ہونے والی ایک اہم طبی تحقیق میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کردیا۔
دل کے دورے کے علاج سے متعلق نئی عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل کی بند شریان میں ہر مریض کے لیے لازمی طور پر اسٹنٹ ڈالنا ضروری نہیں۔ جدید طبی ٹیکنالوجی کے ذریعے شریان میں خون کے بہاؤ اور رکاوٹ کی درست جانچ کرکے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ آیا مریض کو اسٹنٹ کی واقعی ضرورت ہے یا نہیں۔
تحقیق میں دنیا بھر سے 1800 سے زائد مریضوں کو شامل کیا گیا، جبکہ کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) سے بھی تقریباً 200 مریض اس تحقیق کا حصہ بنے۔
این آئی سی وی ڈی کے انٹرونشنل کارڈیالوجی پروگرام کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالحکیم کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے شریان کے اندر خون کے بہاؤ اور رکاوٹ کا زیادہ درست انداز میں جائزہ لینا ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ایسے مریضوں کی بہتر طور پر نشاندہی کی جا سکتی ہے جنہیں شریان میں اسٹنٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق تحقیق کے نتائج دل کے دورے کے مریضوں کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے غیر ضروری اسٹنٹ ڈالنے سے گریز، مریض کے لیے مناسب علاج کے انتخاب اور طبی فیصلوں کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کا استعمال مریض کی انفرادی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کے بہتر اور زیادہ درست فیصلے کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

شائع ہوا: 7 ستمبر، 2026 کو 04:32 AM
آخری تدوین: 7 ستمبر، 2026



