اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کا جدید ترین ماڈل جی پی ٹی-6 متعارف کرا دیا


اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے جدید ترین ماڈل جی پی ٹی-6 کو ’آسٹرا‘ کے نام سے متعارف کرا دیا ہے، جسے کمپنی نے کمپیوٹر استعمال، ویب براؤزنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کا حامل قرار دیا ہے
اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے چیٹ جی پی ٹی کا جدید ترین ماڈل جی پی ٹی-6 متعارف کرا دیا ہے، جسے ’آسٹرا‘ کا نام دیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق نئے ماڈل نے ابتدائی ٹیسٹنگ کے دوران بعض مواقع پر غیر متوقع رویہ اختیار کیا، تاہم مزید بہتری اور تربیت کے بعد اسے جدید صلاحیتوں کے ساتھ صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی کا دعویٰ ہے کہ آسٹرا نے کارکردگی کے مختلف پیمانوں پر اینتھروپک کے کلاؤڈ اور گوگل کے جیمینائی سمیت دیگر بڑے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق جی پی ٹی-6 کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ صرف سوالات کے جوابات دینے تک محدود نہیں بلکہ کمپیوٹر استعمال کرنے، ویب پر معلومات تلاش کرنے، سافٹ ویئر تیار کرنے، سائبر سیکیورٹی کے کاموں، سائنسی تحقیق اور مختلف پیشہ ورانہ امور میں بھی پیچیدہ کام انجام دے سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے کیے گئے مظاہرے میں دکھایا گیا کہ آسٹرا بیک وقت صارف کی مختلف ہدایات پر کام کرتے ہوئے پیچیدہ نوعیت کے کئی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کاموں میں قانونی معاہدہ تیار کرنا اور ویڈیو گیم بنانا بھی شامل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ماڈل کی متعدد کام ایک ساتھ انجام دینے کی صلاحیت اسے روایتی چیٹ بوٹس کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بناتی ہے، جبکہ اس کی جدید کمپیوٹر استعمال کرنے کی صلاحیت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان جدید ترین ماڈلز کی تیاری اور کارکردگی میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ مسلسل جاری ہے۔ جی پی ٹی-6 کی آمد کو بھی اسی مسابقت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

شائع ہوا: 7 ستمبر، 2026 کو 03:56 AM
آخری تدوین: 7 ستمبر، 2026



