طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے کی سیاست نہیں چلے گی: فضل الرحمان


مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ جے یو آئی سربراہ نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے مؤقف پر بھی بات کی اور کہا کہ طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے کی سیاست نہیں چلے گی
لاہور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کے معاملے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے، ہم صوبے بنانے کے خلاف نہیں، تاہم وقت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
لاہور میں ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی صرف سندھ کی حد تک بات کرتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) اس معاملے پر خاموش ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر بھی ایک قوم نہیں بنا سکے، ملک میں لسانیت کی بنیاد پر فسادات کرائے گئے جبکہ پاکستان کی اساس بیرونی قرضوں پر رکھ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام بظاہر ختم ہوچکا ہے، لیکن بین الاقوامی ادارے آج بھی ہمارے ملک کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کا محتاج بنا دیا گیا ہے اور اگر ہماری معاشی پالیسیاں بیرونی ادارے طے کریں تو یہ نوآبادیاتی نظام ہی کی ایک شکل ہے۔
جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان عوام کا ملک ہے اور یہاں عوام نے ہی رہنا ہے۔ ملک امن و امان کے ذریعے طاقتور ہوتا ہے، لیکن یہاں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے اور امت مسلمہ کو بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ پاکستان کے غریب انسان کو عزت کی زندگی دینا چاہتے ہیں۔ اشرافیہ کی سیاست اور جابرانہ سیاست نہیں چلے گی، طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے کی سیاست بھی نہیں چلے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف ہونے والی تمام تحریکوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

شائع ہوا: 8 ستمبر، 2026 کو 03:49 AM
آخری تدوین: 8 ستمبر، 2026



