ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، لبنان میں حمایت یافتہ گروہوں کو نہ روکا تو دوبارہ سخت حملے ہوں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیاں نہ روکیں تو امریکہ دوبارہ ایران پر سخت حملے کر سکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوران ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آگیا
سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے نہ روکا تو امریکہ دوبارہ سخت کارروائی کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران فوری طور پر لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو اشتعال انگیز سرگرمیوں سے باز رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کرے گا، جو گزشتہ ہفتے کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ سخت ہو سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت مذاکرات جاری ہیں، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی اور جنگ کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
دوسری جانب 19 جون کو اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کے خاتمے تک فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ فعال ہے اسرائیلی افواج لبنان سے مکمل انخلا نہیں کریں گی، جبکہ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی موجودگی تک ہتھیار ڈالنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایرانی فوج نے ایک بار پھرآبنائے ہرمزبند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 21 جون، 2026 کو 03:42 PM
آخری تدوین: 21 جون، 2026



