تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر فیصلہ نہیں ہوا، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری تاحال نہیں دی گئی، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ سے شمالی کوریا، جوہری ہتھیاروں اور دیگر اہم امور پر بات چیت ہوئی۔
طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے تائیوان کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ شمالی کوریا، جوہری ہتھیاروں میں کمی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، تاہم ٹیرف کے معاملے پر بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین امریکا سے اربوں ڈالر مالیت کا سویا بین خریدے گا۔
ایران کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، البتہ اگر ایران کا جوہری پروگرام بیس سال کیلئے معطل ہو جائے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند روز میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے یا برقرار رکھنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا کاروبار کرتا ہے جبکہ ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی تجارت کو محدود کیا گیا۔
امریکی صدر کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا، جبکہ انہوں نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 مئی، 2026 کو 01:26 PM
آخری تدوین: 15 مئی، 2026



