وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ جمعہ سے پہلے ایران معاہدے کی ابتدائی دستاویز جاری کر سکتے ہیں، جے ڈی وینس

W
Web Desk
16 جون، 2026
ٹرمپ جمعہ سے پہلے ایران معاہدے کی ابتدائی دستاویز جاری کر سکتے ہیں، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ایران کے ساتھ ابتدائی امن معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں۔

(واشنگٹن )امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے قبل ہی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی سے متعلق ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور تمام بنیادی معاملات طے پا گئے ہیں۔ وینس نے اس معاہدے کو تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ایک عمومی مفاہمتی دستاویز قرار دیا، جبکہ اس کی تفصیلی شرائط آئندہ مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔

سینیئر امریکی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز متوقع ہیں، جبکہ اسی دن آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کا بھی امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر آج پانچ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جو خطے میں کشیدگی میں کمی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ اہم سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہ اجلاس میں شریک ہیں، جہاں ایران کی صورتحال پر ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے ساتھ ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور بنیادی امور پر اتفاق رائے حاصل کر لیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق معاہدے پر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طریقے سے دستخط کیے ہیں، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا منجمد اثاثوں کی واپسی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تہران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر کس حد تک عمل درآمد کرتا ہے۔

جے ڈی وینس نے فاکس نیوز اور سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مفاہمتی دستاویز میں ایران کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ، دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت ختم کرنے اور قابلِ تصدیق انداز میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کو بنیادی نکات کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریق اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل کرتے ہیں تو یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سفارتی باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 16 جون، 2026 کو 08:08 AM

آخری تدوین: 16 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا میں تباہ، عملے کے تمام 8 افراد ہلاک
امریکا

امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ کیلیفورنیا میں تباہ، عملے کے تمام 8 افراد ہلاک

بی-52 اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کے اسٹریٹجک بمبار بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ جوہری اور روایتی دونوں اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بغیر ایندھن بھرے 8 ہزار میل سے زائد فاصلے تک پرواز کر سکتا ہے

Web Desk16 جون، 2026
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، ٹرمپ کا اعلان، تیل بردار جہاز دوبارہ روانہ
امریکا

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، ٹرمپ کا اعلان، تیل بردار جہاز دوبارہ روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور تیل بردار جہاز محفوظ راستوں سے اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہیں۔ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

Web Desk15 جون، 2026
امریکی سینیٹر لینزی گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ
تازہ ترین

امریکی سینیٹر لینزی گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹر لینزی گراہم نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کو کانگریس کے سامنے منظوری اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے۔ انہوں نے معاہدے کی مختلف تشریحات پر بھی تشویش ظاہر کی

Web Desk15 جون، 2026