آئی ایم ایف کا انتباہ: توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کی بحالی میں مزید وقت لگے گا

آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کے باوجود توانائی بحران اور سپلائی چین کے مسائل برقرار ہیں۔ تیل، خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات موجود ہیں جبکہ عالمی معیشت کو بدستور سنگین خطرات لاحق ہیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ عالمی معیشت مجموعی طور پر مستحکم ہے، تاہم توانائی اور سپلائی چین سے متعلق خطرات بدستور موجود ہیں۔
اپنے ایک بیان میں کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ توانائی کا بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور سپلائی چین کو درپیش رکاوٹوں کے خاتمے میں بھی وقت لگے گا۔ ان کے مطابق بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث عالمی رسد کے نظام کی مکمل بحالی فوری طور پر ممکن نہیں۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ عالمی معاشی بحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حالیہ تنازع کے نتیجے میں توانائی کے شعبے کو پہنچنے والا جھٹکا کتنا گہرا ثابت ہوتا ہے۔ اگرچہ فی الوقت عالمی معاشی سست روی کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے، لیکن خطرات کی سطح اب بھی بلند ہے اور رسد میں رکاوٹیں عالمی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق آئی ایم ایف عالمی اقتصادی ترقی سے متعلق اپنی تازہ پیش گوئی 8 جولائی کو جاری کرے گا۔ یاد رہے کہ اپریل میں ادارے نے عالمی معیشت کی شرح نمو 3.1 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے باوجود خام تیل کی قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، جس کے باعث توانائی، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات برقرار ہیں۔
آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ متعدد افریقی ممالک ایندھن کی قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایم ڈی آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ تیل برآمد کرنے والے بعض خلیجی ممالک کی معاشی نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ یورپ میں مہنگی توانائی اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکا اور چین کی معیشتیں نسبتاً مضبوط رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 جون، 2026 کو 08:13 AM
آخری تدوین: 16 جون، 2026



