ٹرمپ کا عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان، ایران کی بحری ناکہ بندی کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں، امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری، آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی میں تبدیلی اور ایران کی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے اہم اعلانات کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے ساتھ توانائی کے شعبے میں متعدد بڑے معاہدوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران کے خلاف دوبارہ بحری ناکہ بندی کرنے کا اعلان بھی کیا، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد فیس واپس لینے کا فیصلہ بھی سامنے آیا۔
وائٹ ہاؤس میں عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کمپنیاں عراق کے وسیع تیل ذخائر سے زیادہ مقدار میں تیل نکالنے کے منصوبوں پر کام کریں گی، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عراق بے پناہ معاشی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور امریکا اس کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ ان کے مطابق نئے معاہدوں سے امریکا اور عراق کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں کے ساتھ مثبت بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور اس کی جگہ تجارتی و سرمایہ کاری کے معاہدوں کو ترجیح دی جائے گی۔
ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے امریکا میں سرمایہ کاری بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جسے انہوں نے خطے اور امریکی معیشت کے لیے بہتر پیش رفت قرار دیا۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا دوبارہ ایران کی بحری ناکہ بندی کرے گا اور خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر عراق کو کسی بھی قسم کی مدد درکار ہوئی تو امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہوگا، جبکہ ایران کو بھی معاہدے کے ذریعے مسائل کے حل کا ایک موقع دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے امریکا اپنی ذمہ داری پوری کرتا رہے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 جولائی، 2026 کو 04:07 AM
آخری تدوین: 15 جولائی، 2026



