ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم کرنے کا اعلان، وائٹ ہاؤس میں ہنگامی اجلاس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ جلد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران جنگ کو تیزی سے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر حملہ مؤخر کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی زیر صدارت ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی سلامتی ٹیم کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں امریکی نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دیگر فوجی و سکیورٹی حکام شریک ہوئے جہاں ایران سے متعلق مختلف فوجی اور سفارتی آپشنز پر غور کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ممکنہ فوجی کارروائیوں، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور سفارتی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور امریکہ اس جنگ کو جلد ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، فوج اور قیادت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو وہ سب سے پہلےاسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس لیے ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا ضروری ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو “بڑا دھچکا” دینا ہوگا اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ حملہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے خلاف آئندہ دو سے تین روز میں، ممکنہ طور پر جمعہ، ہفتہ یا اگلے ہفتے کے آغاز میں دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 20 مئی، 2026 کو 04:48 AM
آخری تدوین: 20 مئی، 2026



