'یہ کوئی کیک نہیں کہ چھری سے کاٹ دیا جائے'، نئے صوبوں کی بحث پر مولانا فضل الرحمان کا ردعمل

مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر کہا ہے کہ یہ کوئی کیک نہیں جسے چھری سے کاٹ دیا جائے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر عوامی رائے، آئینی طریقہ کار اور وسیع مشاورت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ملکی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کیا
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانا ایک اہم انتظامی اور آئینی معاملہ ہے، جس پر جلد بازی یا یکطرفہ فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کیے جاتے ہیں، تاہم پاکستان میں اس حوالے سے فیصلہ کرنے سے قبل ملک کی ساخت، عوامی رائے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت ضروری ہے۔
انہوں نے حالیہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، وفاقی حکومت کی پالیسی ہے یا کابینہ کی منظوری سے دیا گیا مؤقف۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، لیکن پہلے یہ دیکھا جائے کہ آیا ملک اس کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے رائے لی جائے اور ہر صوبے کے عوام کے جذبات اور شناخت کو مدنظر رکھا جائے۔
انہوں نے کہا، "یہ کوئی کیک نہیں ہے کہ آپ چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں، ایسے فیصلے مشاورت اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہییں۔"
ملکی امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مختلف علاقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور عوام خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال تشویش کا باعث تھی، تاہم اب کشمیر میں بھی اضطراب بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول کشمیر کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے مؤثر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو تجویز دی کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلائیں تاکہ ملک کو درپیش سیاسی، آئینی اور سکیورٹی چیلنجز پر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا اجلاس نہ بلایا گیا تو جمعیت علمائے اسلام ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے پر غور کرے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو آئین کے مطابق چلایا جانا چاہیے، تمام مسائل کا حل آئینی بالادستی میں ہے اور عوام پر کسی بھی قسم کی جبری حکومت مسلط نہیں ہونی چاہیے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 اگست، 2026 کو 02:53 AM
آخری تدوین: 5 اگست، 2026



