ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف کا اعلان، پاکستانی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد ہونے سے ٹیکسٹائل، گارمنٹس، سرجیکل آلات اور دیگر برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا، جبکہ کئی ممالک نے امریکی فیصلے پر اعتراض بھی کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان سمیت دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام امریکی تجارتی قانون سیکشن 301 (Section 301) کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ان ممالک پر دباؤ بڑھانا ہے جو امریکہ کے مطابق جبری مشقت (Forced Labor) سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں کر رہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان سے امریکہ درآمد کی جانے والی بیشتر مصنوعات پر 10 فیصد اضافی درآمدی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ یہی شرح برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، بھارت، ملائیشیا اور چند دیگر ممالک پر بھی لاگو ہوگی، جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی امریکہ کو ہونے والی ٹیکسٹائل، گارمنٹس، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور دیگر برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اضافی ٹیرف کے باعث امریکی درآمد کنندگان کے لیے پاکستانی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب متعدد ممالک نے امریکی فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عالمی سپلائی چینز سے جبری مشقت کے خاتمے اور منصفانہ تجارتی اصولوں کے فروغ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 24 جولائی، 2026 کو 12:57 PM
آخری تدوین: 24 جولائی، 2026



