جنگ بندی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو گئیں، ایرانی سفیر کا انکشاف

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا تعمیری کردار خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
(اسلام آباد) ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں جنگ کو خطرناک اور نازک مرحلے میں پہنچنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران برادر دوست ملک پاکستان کی اس خیرسگالی اور مثبت سفارتی کوشش کو سراہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ کوششیں امریکی اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیے اہم ہیں۔ رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ یہ اقدامات اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مسائل کا حل سفارتی اور سیاسی ذرائع سے نکالا جائے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کو پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا جنگ بندی منصوبہ موصول ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امن منصوبہ دو مرحلوں پر مشتمل ہے جس میں پہلے فوری جنگ بندی اور اس کے بعد جامع مذاکرات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کی رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔
منصوبے کے تحت 45 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات متوقع ہیں۔ مجوزہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 اپریل، 2026 کو 06:22 AM
آخری تدوین: 7 اپریل، 2026



