ایران کا انتباہ: نئی امریکی کارروائی کی صورت میں خلیج کی توانائی تنصیبات اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ کارروائی کی تو خلیج میں توانائی تنصیبات، آئل فیلڈز، ریفائنریوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ سفارتی حل پر بھی زور دیا گیا
ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی نئی فوجی کارروائی کی گئی تو وہ خلیج میں واقع اہم توانائی تنصیبات، آئل فیلڈز، ریفائنریوں، بجلی اور پانی کے نظام، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ انتباہ خلیجی ممالک تک سفارتی ذرائع سے پہنچایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ کے وزرائے خارجہ اور پاکستانی حکام سے رابطوں کے دوران تہران کا مؤقف واضح کیا۔
ایران نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کو روکنے کی کوشش کریں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل کی حمایت کریں۔
تہران کا کہنا ہے کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے یا قومی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے میں دیا جائے گا، جس کے اثرات خلیج کی توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس بیان نے خلیج میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ عالمی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے وابستہ ہے۔ ایسے میں کسی بھی نئی کشیدگی کے عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، علاقائی ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 02:40 AM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



